مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 521
مکتوبات احمد ۵۲۱ جلد اول جائے کیونکہ یہ بات نہایت بد یہی ہے کہ جب آنکھ آفتاب کے محاذات میں ٹکٹکی باندھے یعنی آفتاب کی آنکھ اور انسان کی آنکھ آمنے سامنے ہو جا ئیں تو اُس صورت میں بھی انسان کی آنکھ فعل بصارت سے بکلی معطل ہو جاتی ہے اور روشنی کی شوکت اور ہیبت اُس کو ایسا دباتی ہے کہ اُس کی تمام قوت بینائی اندر کی طرف بھاگتی ہے ۔ پس یہ حالت فناء فی الفناء کی حالت سے مشابہ ہے اور اس فقدان رؤیت میں جو دونوں طور ظلمت اور نور کی وجہ سے ظہور میں آتا ہے ۔ ا ہے۔ سکریت اور فناء فی الفناء کا فرق سمجھنے کیلئے بڑا نمونہ ہے۔ مگر بایں ہمہ باطنی کیفیت جس کا موجب تجلیات الہیہ اور جذبات غیبیہ ہوتے ہیں، پیچون اور بچگون ہے۔ جس میں اجتماع ضدین بھی ممکن ہے۔ باوجود بے شعوری کے شعور بھی ہو سکتا ہے اور باوجود شعور کے بے شعوری بھی ہو سکتی ہے ۔ مگر ظلمانی حالات میں اجتماع ضدین ممکن نہیں ۔ وہ عالم اس عالم سے بکلی امتیاز رکھتا ہے ۔ فَلَا تَضْرِ بُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ لے اس جہت سے پہلے بھی لکھا گیا تھا ۔ فَلَمَّا تَجَنِّي رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقَا موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا بیہوش ہو کر گرنا ایک واقعہ نورائی تھا۔ جس کا موجب کوئی جسمانی ظلمت نہ تھی بلکہ تجلیات صفات الہیہ جو بغایت انشراق نور ظہور میں آئی تھیں ۔ وہ اُس کا موجب اور باعث تھیں ۔ جن کی انشراق تام کی وجہ سے ایک عاجز بندہ عمران کا بیٹا بیہوش ہو کر گر پڑا اور اگر عنایت الہیہ اُس کا تدارک نہ کرتیں تو اُسی حالت میں گذر ہو کر نا بود ہو جاتا ۔ مگر یہ مرتبہ ترقیات کاملہ کا انتہائی درجہ نہیں ہے۔ انتہائی درجہ وہ ہے جس کی نسبت لکھا ہے کہ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى ہے انسان زمانه سیر کے سلوک میں اپنے واقعات کشفیہ میں بہت سے عجائبات دیکھتا ہے اور انواع واقسام کی واردات اُس پر وارد ہوتی ہیں ۔ مگر اعلیٰ مقام اُس کا عبودیت ہے جس کا لازمہ صحو اور ہوشیاری سے اور سکر اور شطح سے بکلی بیزاری ہے ۔ هدانا الله ايانا واياكم الصراط المستقيم الذي انعم على النبين والصديقين والشهداء والصلحين واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين - والسلام عليكم وعلى اخوانكم من المؤمنين - ( ۲۵ مارچ ۱۸۸۳ ء مطابق ۱۵ جمادی الاول ۱۳۰۰ھ ) ل النحل : ۷۵ الاعراف: ۱۴۴ ۳ النجم: ۱۸ الحکم ۱۵ اکتوبر ۱۸۹۸ء صفحه ۴۰۳