مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 519 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 519

مکتوبات احمد ۵۱۹ جلد اول باقی نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ غلبہ شہود ہستی الہی سے وہ اپنے وجود کو بھی نابود ہی خیال کرتا ہے۔ پس یہ مقام عبودیت وفناء اتم ہے جو غایت سیر اولیاء ہے اور اسی مقام میں غیب سے باذن اللہ ایک نو رسا لک کے قلب پر نازل ہوتا ہے جو تقریر اور تحریر سے باہر ہے۔ غلبہ شہود کی ایک ایسی حالت ہے کہ جو علم الیقین اور عین الیقین کے مرتبہ سے برتر ہے۔ صاحب شہود تام کو ایک علم تو ہے مگر ایسا علم جو اپنے ہی نفس پر وارد ہو گیا ہے جیسے کوئی آگ میں جل رہا ہے۔ سو اگر چہ وہ بھی جلنے کا ایک علم رکھتا ہے مگر وہ علم الیقین اور عین الیقین سے برتر ہے۔ کبھی شہود تام بے خبری تک بھی نوبت پہنچا دیتا ہے اور حالت سکر اور بیہوشی کی غلبہ کرتی ہے۔ اُس حالت سے یہ آیت مشابہ ہے۔ فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَةً وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا ہے لیکن حالت تام وہ ہے جس کی طرف اشارہ ہے مَا زَاغَ الْبَصَرُ و ما طغی - یہ حالت اہل جنت کے نصیب ہوگی ۔ پس غایت یہی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ اشارہ فرمایا ہے وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاصِرَةً إِلى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ - - والله اعلم بالصواب - السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ (۱۸ / مارچ ۱۸۸۳ ء مطابق ۸ جمادی الاول ۱۳۰۰ھ ) مکتوب نمبر ۹ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ آپ کا والا نامہ پہنچا۔ خداوند کریم آپ کو خوش و خرم رکھے ۔ آپ دقائق متصوفین میں سے سوالات پیش کرتے ہیں اور یہ عاجز مفلس ہے۔ محض حضرت ارحم الراحمین کی ستاری نے اس پیچ اور ناچیز کو مجالس صالحین میں فروغ دیا ہے ۔ ورنہ من آنم کہ من دانم ۔ کاروبار قادر مطلق سے سخت حیران ہے کہ نہ عابد، نہ عالم، نہ زاہد ۔ کیونکر اخوان مومنین کی نظر میں بزرگی بخشتا ہے۔ اس کی عنایات کی کیا ہی بلندشان ہے۔ اور اُس کے کام کیسے عجیب ہیں ۔ پسند ید گانے به زما کہتر انش چه جائے آید رسند پسند ل الاعراف: ۱۴۴ ۲ النجم: ۱۸ ۳ القيمة: ۲۴،۲۳ یه الحکم ۸ اکتوبر ۱۸۹۸ء صفحه ۴ ، ۵