مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 510
مکتوبات احمد ۵۱۰ مکتوب نمبر ۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي جلد اول مشفقی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ آپ کا عنایت نامہ معہ ایک ہنڈ وی مبلغ بیس روپیہ بابت خریداری دو جلد کتاب پہنچا ۔ جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا وَهُوَ يَسْمَعُ وَيَرَى ۔ میں آپ کی مساعی پر نظر کر کے آپ کی قبولیت کا بہت امیدوار ہوں ۔ خصوص ایک عجیب کشف سے جو مجھ کو ۳۰ دسمبر ۱۸۸۲ء بروز شنبہ کو یکدفعہ ہوا ۔ آپ کے شہر کی طرف نظر لگی ہوئی تھی اور ایک شخص نامعلوم الاسم کی ارادت صادقہ خدا نے میرے پر ظاہر کی ۔ جو باشندہ لود ہیا نہ ہے۔ اس عالم کشف میں اُس کا تمام پتہ ونشان ، سکونت بتلا دیا جواب مجھ کو یاد نہیں رہا۔ صرف اتنا یا درہا کہ سکونت خاص لودہیا نہ اور اُس کے بعد اُس کی صفت میں یہ لکھا ہوا پیش کیا گیا۔ سچا ارادت مند اصلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ لا یعنی اُس کی ارادت ایسی قوی اور کامل ہے کہ جس میں نہ کچھ تزلزل ہے نہ نقصان ہے ۔ کئی پادریوں اور ہندوؤں اور بر ہمولوگوں کو کتابیں دی گئی ہیں اور وہ کچھ جان کنی کر رہے ہیں ۔ ۔ مکتوب نمبر ۴ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مشفقی ومکرمی میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ دس روپیہ کا منی آرڈر پہنچ گیا ۔ خداوند کریم آپ کی سعی کا اجر بخشے جو کچھ فساد زمانہ کا حال لکھا ہے سب واقعی امر ہے۔ اس عاجز کی دانست میں اُمت محمدیہ پر ایسا فاسد زمانہ کوئی نہیں آیا۔ تمام زمانوں سے زیادہ تر ظلماتی وہ زمانہ تھا جس کی تنویر کے لئے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی ضرورت پڑی ۔ وہ ایسا ظلماتی زمانہ تھا جس کی نظیر دنیا میں کوئی نہیں گزری اور اس زمانہ کی ا ابراهیم ۲۵