مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 491 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 491

مکتوبات احمد ۴۹۱ جلد اول قرآن شریف اور تمام عرب کی زبان میں ہے جیسا کہ اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تا ہے اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيمًا فَاوی لے یعنی کیا خدا نے تجھ کو یتیم پا کر پھر پناہ نہ دی ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے اوّل آپ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یتیم کیا اور یتیمی کے تمام مصائب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وارد کئے اور پھر بعد مصائب کے پناہ دی ۔ پس آوای کے لفظ میں شرط ہے کہ جس کو پناہ دی جائے ، وہ اوّل کچھ مصیبتیں اُٹھا چکا ہو ۔ یہی فقرہ وحی الہی کا ہے جس کے معنی مفسد طبع لوگوں نے اپنی قدیم عادت کے موافق یہ بنائے کہ گویا خدا نے یہ فرمایا تھا کہ قادیان میں طاعون سے کوئی نہیں مرے گا ۔ اب اس جگہ بھی بجز اس کے ہم کیا کہیں کہ لَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ اور یادر ہے کہ پیسہ اخبار والے کو تو حق سے قدیم بغض ہے اور خلاف واقعہ لکھنا اور اپنی طرف سے بات بنانا اس کی عادت ہے اور میں اس بارے میں مدت ہوئی چند کتابیں شائع کر چکا ہوں اور عام طور پر بتلا چکا ہوں کہ ایسی کوئی مجھے وحی نہیں ہوئی جس کے یہ معنی ہوں کہ قادیان میں طاعون ہرگز نہیں پڑے گی ۔ اب اگر آپ کا دعوئی ہو کہ ضرور میں نے ایسی کوئی پیشگوئی شائع کی تھی تو اس کو پیش کرنا چاہئے ۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے ایسی کوئی وحی شائع نہیں کی جس کے یہ معنی ہوں کہ قادیان میں طاعون نہیں پڑے گی ۔ اب اگر کوئی کہے کہ شائع کی تھی تو بجز اس کے کیا جواب دوں کہ لَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۔ پھر یہ دوسرا اعتراض کہ مریدوں کے لئے یہ وحی شائع کی تھی کہ ان میں سے کوئی نہیں مرے گا ۔ یہ بھی سراسر یہ ل الضحى: ۷ پیسہ اخبار کا خلاف واقعہ لکھنے کا یہ نمونہ کافی ہے کہ قادیان میں بعض اموات جو اور اور بیماریوں سے ہوئی تھیں۔ اس نے طاعون میں داخل کر دیں۔ اور ایک شخص دیوانہ کتے کے کاٹنے سے مرا تھا وہ بھی طاعونی موت قرار دی اور اس طرح پر طاعون کی وارداتیں زیادہ دکھلائیں ۔ ورنہ اردگرد کے دیہات کی نسبت اس قدر قادیان میں طاعون کم رہی ہے کہ گویا نہیں ہوئی اور قادیان میں قدیم سے آبادی تین ہزار سے زیادہ نہیں بلکہ کم ہے۔ یہ کس دروغ گو کے منہ سے نکلا کہ اب صرف تین سو باقی ہیں۔ پیسہ اخبار کی بار بار کی خلاف بیانی اور عوام کو دھو کہ دینے کی نسبت بجز اس کے ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ لعنت الله علی الکاذبین۔اس نے یہ بھی خلاف واقعہ لکھا کہ فلاں فلاں آدمی طاعون سے مر گئے ہیں حالانکہ نہ ان کو طاعون ہوئی اور نہ وہ مرے۔ بلکہ اب تک زندہ موجود ہیں ۔ منہ