مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 480
مکتوبات احمد ۴۸۰ جلد اول ہے خدا تعالیٰ کی عطا کی تقسیم ہے ۔ اگر کوئی بخل سے مربھی جائے تو اس کو کیا پروا ہے اور جو شخص مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے ذکر سے مجھ پر ناراض ہوتا ہے ۔ اس کو ذرا خدا سے شرم کر کے اپنے نفس سے ہی سوال کرنا چاہئے کہ کیا یہ عبداللہ صاحب غزنوی اس مہدی ومسیح موعود کے درجہ پر ہو سکتا ہے جس کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کہا اور فرمایا کہ خوش قسمت ہے وہ اُمت جو دو پناہوں کے اندر ہے ۔ ایک میں جو خاتم الانبیاء ہوں اور ایک مسیح موعود جو ولایت کے تمام کمالات کو ختم کرتا ہے اور فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو نجات پائیں گے ۔ اب فرمائیے کہ جو شخص مسیح موعود سے کنارہ کر کے عبداللہ غزنوی کی وجہ سے اس سے ناراض ہوتا ہے اس کا کیا حال ہے؟ کیا سچ نہیں ہے کہ تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے صلحا اور اولیاء اور ابدال اور قطبوں اور غوثوں میں سے کوئی بھی مسیح موعود کی شان اور مرتبہ کو نہیں پہنچتا۔ پھر اگر یہ سچ ہے تو آپ کا مسیح موعود کے مقابل پر مولوی عبداللہ غزنوی کا ذکر کرنا اور بار بار یہ شکایت کرنا کہ عبداللہ کے حق میں یہ کہا ہے کس قدر خدائے تعالیٰ کے احکام اور اس کے رسول کریم کی وصیتوں سے لا پرواہی ہے۔ کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ عبداللہ غزنی سے نکالا جائے گا اور پنجاب میں علیہ آئے گا۔ اس کو تم مان لینا اور میر اسلام اس کو پہنچانا یا یہ نصیحت فرمائی تھی کہ غلبہ صلیب کے وقت مسیح موعود ظاہر ہوگا اور وہ نبیوں کی شان لے کر آئے گا اور خدا اسکے ہاتھ پر صلیبی مذہب کو شکست دے گا۔ اس کی نافرمانی نہ کرنا اور اس کو میری طرف سے سلام پہنچانا اور اگر یہ کہو کہ وہ تو آکر نصاری سے لڑے گا اور ان کی صلیبوں کو توڑے گا اور ان کے خنزیروں کو قتل کرے گا تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ علمائے اسلام کی غلطیاں ہیں بلکہ ضرور تھا کہ مسیح موعود نرمی اور صلح کاری کے ساتھ آتا اور صحیح بخاری میں بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود جنگ نہیں کرے گا اور نہ تلوار اُٹھائے گا بلکہ اس کا حربہ آسمانی حربہ ہوگا اور اس کی تلوار دلائل قاطعہ ہوگی ۔ سو وہ اپنے وقت پر آچکا ۔ اب کسی فرضی مہدی اور فرضی مسیح موعود کی انتظار کرنا اور خونریزی کے زمانہ کا منتظر رہنا سرا سر کو تہ فہمی کا نتیجہ ہے۔ اور خدا نے میرے ہاتھ پر بہت سے نشان دکھلائے اور وہ ایسے یقینی طور پر ظاہر ہوئے کہ تیرہ سو برس کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کی نظیر نہیں پائی جاتی ۔ اسلامی اولیاء کی کرامات ان کی زندگی سے بہت پیچھے لکھی گئی ہیں اور ان کی