مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 474
مکتوبات احمد ۴۷۴ جلد اول بآسانی اس خواب کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں کہ ایک زمانہ تک اس شخص کا یہ دعوی رہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی تائید میں ایسے الہامات اور کشوف ہوتے ہیں اور وہ آپ کی اسلامی خدمات کو خود دیکھتا تھا اور حضرت کے متعلق اس کے اپنے الہام میں یہ بتایا گیا تھا کہ یہ خاص اللہ کا فضل ہے۔ باوجود ان باتوں کے اس خواب نے اس کو غلطی میں ڈال دیا اور وہ اپنے آپ کو اس مقام پر سمجھنے لگا کہ وہ شخص جس کے مقام اور شان کی خدا تعالیٰ نے بقول اس کے اس کو خبر دی تھی اس کی بیعت کرے ۔ یہ خواب اس کے لئے ٹھوکر کا پتھر ہوا۔ بابو صاحب ستمبر ۱۸۹۸ء میں قادیان اس خواب کو دیکھ کر آئے ۔ منشی عبدالحق صاحب لاہوری بھی ان کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے حضرت اقدس کو اپنے الہامات اور یہ خواب سنایا ۔ حضرت اقدس نے نہایت محبت اور درد دل کے ساتھ ان کو بتایا کہ مامور من اللہ اور عوام کے الہامات میں ایک فرق بین ہوتا ہے ۔ عوام کے الہامات میں ان کی ذاتی خواہشات اور تمنا بھی شامل ہو جاتی ہے اور اس طرح بعض اوقات وہ شیطان کے ہاتھ میں کھیلتے ہیں ۔ حضرت اقدس سے ان کا یہ تخلیہ قریباً دو گھنٹہ تک رہا۔ مغرب کی نماز کے بعد وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر میں نے حافظ محمد یوسف صاحب کے ذکر میں کیا ہے۔ حضرت اقدس کی نصائح سے وہ پہلے ہی افروختہ تھے ۔ بابو صاحب زود رنج تھے اور اس کی علامات ہر شخص ان کے چہرہ پر دیکھ سکتا تھا کہ وہ عموماً عبوس الوجہ رہتے تھے۔ جب بلعم والے معاملہ کو حضرت نے بیان کیا تو اس بد قسمت نے یہ سمجھا کہ مجھے ایسا کہا گیا ہے۔ میں جو اس مجلس میں موجود تھا، قسم کھا کر بیان کر سکتا ہوں کہ حضرت نے اشار تا کنا یا بھی ان کی نسبت کچھ نہ کہا ۔ حضرت مولوی عبد الکریم کا سوال بھی اس نیت سے نہ تھا اور وہ خالی الذہن تھے ۔ حضرت اقدس نے اس گفتگو کا جو اندر تخلیہ میں منشی الہی بخش سے ہوئی اب تک ذکرنہ کیا تھا۔ یہ حالات تو ضرورۃ الامام کی تصنیف اور منشی الہی بخش کے جانے کے بعد کہے۔ غرض منشی صاحب کیلئے یہ سفر نہایت نا مبارک ہوا وہ اخلاص اور محبت جو انہوں نے سالہا سال سے پیدا کی تھی وہ اپنے نفس کے مکاید میں مبتلا ہو کر ضائع کر دی اور ان کا انجام ابتداء سے بدتر ہو گیا۔ وہ اپنے دل میں یہ جذبہ لے کر گئے کہ حضرت مرزا صاحب نے انکو بھری مجلس میں ذلیل کیا اور میرے الہامات کو حقیر سمجھا۔ کیونکہ حضرت اقدس نے اپنی ملاقات میں انہیں یہ