مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 471
مکتوبات احمد ۴۷۱ جلد اول سے منشی صاحب موصوف کو یہ قسم ہے کہ اے منشی الہی بخش صاحب ! آپ کو اس خدائے قادر ذو الجلال غیور کی قسم ہے کہ میری نسبت جس قدر آپ کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہامات ہوئے ہیں ۔ وہ سب کے سب معہ ترجمہ لکھ کر کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کر دیجئے ۔ میں آپ کو اے منشی الہی بخش صاحب ! پھر اس قادر قدوس کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ان الہامات میں سے جو آپ نے حافظ محمد یوسف صاحب کو یا حضرت منشی عبدالحق صاحب کو یا کسی اور کو سنائے ہیں یا ابھی سنائے نہیں ، کوئی الہام مخفی نہ رکھئے ۔ میں پھر تیسری مرتبہ اے منشی الہی بخش صاحب ! آپ کو اس حتی و قیوم لَا إِلَهَ إِلَّا الله کے مصداق کی قسم دیتا ہوں جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف نازل کیا ہے اور قسم کا منشاء یہی ہے کہ آپ اسی کے منہ کے لئے ، اسی کی عزت کے لئے ، اسی کے نام کے ادب کے لئے وہ کل الہامات جو میری نسبت آپ کو ہوئے ہیں۔ اس خط کے پہنچنے سے ایک ہفتہ تک کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کرا دیجئے اور دس اشتہار میری طرف بھی بھیج دیجئے اور کوئی الہام جو میری نسبت ہو چکا ہے۔ مخفی نہ رکھئے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ نعوذ باللہ میری طرف سے نہ کوئی آپ پر نالش ہوگی اور نہ کسی قسم کا بے جا حملہ آپ کی وجاہت وشان پر ہوگا۔ میں جانتا ہوں کہ ایسے سب کام بدذاتی ہیں۔ میں صرف خدا تعالیٰ سے عقدہ کشائی چاہوں گا تا وہ لوگ جو مجھے مسرف اور کذاب کا نام دیتے ہیں جو قرآن میں فرعون اور کسی اشدّ کا فر کا نام ہے اور وہ لوگ ( جو ) میرے دعوی مسیح موعود ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ آپ فیصلہ کرے۔ میں نے تین قسموں کے ساتھ آپ کی خدمت میں عرض کی ہے اور یہ سنت رسول اللہ ﷺ اور تمام پیغمبروں کی ہے کہ جب قسم دے کر ان کو پوچھا جاتا تھا تو وہ اس جواب کو بغیر کم یا زیادہ کرنے کے اور بغیر کسی قسم کی خیانت و تحریف کے ٹھیک ٹھیک مطابق واقعہ بیان کر دیتے۔ سواب اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا آپ اپنے منہ سے قسم کھانے سے الگ رہیے مگر میرا سے مدعا بھی اس طور سے حاصل ہو جائے گا۔ ضرور نہیں کہ اظہار قسم کرو۔ ۵ ۱ رمئی ۱۸۹۹ء الفضل یکم جولائی ۱۹۴۳ء صفحہ ۲ دستخط ۔ مرزا غلام احمد