مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 427

مکتوبات احمد ۴۲۷ جلد اول جو ہمیشہ سے علماء و فقراء میں واقع ہوتے رہتے ہیں۔ مباہلہ کی درخواست کرنا یہ غزنوی بزرگوں کا ہی ایجاد ہے، لیکن اگر علماء ایسے مباہلہ کا فتوی دیں تو ہمیں عذر بھی کچھ نہیں ۔ کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم اس ملاعنہ کے طریق سے جس کا نام مباہلہ ہے اجتناب کریں۔ تو یہی اجتناب ہمارے گریز کی وجہ سمجھی جائے اور حضرات غزنوی خوش ہو کر کوئی دوسرا اشتہار عبدالحق کے نام سے چھپوا دیں اور لکھ دیں کہ مباہلہ قبول نہیں کیا اور بھاگ گئے ۔ لیکن دوسری طرف ہمیں یہ بھی خوف ہے کہ اگر ہم مسلمانوں پر خلاف حکم شرع اور طریق فقر کے لعنت کرنے کے لئے امرتسر پہنچیں تو مولوی صاحبان ہم پر یہ اعتراض کر دیں کہ مسلمانوں پر کیوں لعنتیں کیں اور ان حدیثوں سے کیوں تجاوز کیا جو مومن لعان نہیں ہوتا اور اس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہتے ہیں ۔ سو پہلے یہ ضروری ہے کہ فتوی لکھا جاوے اور اس فتوی پر ان تینوں مولوی صاحبان کے دستخط ہوں جن کا ذکر میں لکھ چکا ہوں ۔ جس وقت وہ استفتاء مصدقہ بمواہیر علماء میرے پاس پہنچے تو پھر حضرات غزنوی مجھے امرتسر پہنچا سمجھ لیں ۔ ماسوا اس کے یہ بھی دریافت طلب ہے کہ مباہلہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں منجانب اللہ تجویز کیا گیا تھا۔ وہ کفار و نصاری کی ایک جماعت کے ساتھ تھا جو نجران کے معزز اور مشہور نصرانی تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مباہلہ جو ایک مسنون امر ہے کہ اس میں ایک فریق کا کافر یا ظالم کس کو خیال کیا گیا ہے اور نیز یہ بھی دریافت طلب ہے کہ جیسا کہ نجران کے نصاری کی ایک جماعت تھی ۔ آپ کی کوئی جماعت ہے یا صرف اکیلے میاں عبدالحق صاحب قلم چلا رہے ہیں؟ تیسرا یہ امر بھی تحقیق طلب ہے کہ اس اشتہار کے لکھنے والے در حقیقت کوئی صاحب آپ کی جماعت میں سے ہیں جن کا نام عبد الحق ہے یا یہ فرضی نام ہے۔ اور یہ بھی دریافت طلب ہے کہ آپ بھی مباہلین کے گروہ میں داخل ہیں یا کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں ۔ ۔ اگر اگر داخل نہیں تو کیا وجہ ؟ اور پھر وہ کونسی جماعت ۔ ہے جن کے ساتھ نساء وابناء واخوان بھی ہوں گے جیسا کہ منشاء آیت کا ہے ۔ ان تمام امور کا جواب بواپسی ڈاک ارسال فرماویں اور نیز یہ سارا خط میاں عبد الحق کو بھی حرف بحرف سُنا دیں اور میاں عبدالحق نے اپنے الہام میں جو مجھے جہنمی اور ناری لکھا ہے اس کے جواب میں مجھے کچھ ضرورت لکھنے کی نہیں ہے کیونکہ مباہلہ کے بعد خود خود ثابت ہو جائے گا کہ اس خطاب کا مصداق