مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 410
مکتوبات احمد ۴۱۰ جلد اول مکتوب نمبرے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي مکرمی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ میری نسبت جو آں مکرم خودستائی و استکبار یا کسی بے جا ادعا کاظن رکھتے ہیں ۔ اس ظن کی بنا صرف بے خبری و نا واقفیت پر ہے۔ بہتوں نے نبیوں کی نسبت بھی ایسے ہی ظن کئے ۔ پھر جب کسی وقت صحبت میسر ہوئی تو جس کو حق کے ساتھ مناسبت تھی ۔ خدا تعالیٰ نے اس کے وساوس دور کر دیئے ۔ سو اگر آپ صحبت سے ہی دور رہیں اور ملاقات سے گارہ تو پھر اس بیماری کا کیوں کر علاج ہو ۔ دعا نبھی ان ہی لوگوں کے حق میں قبول ہوتی ہے کہ جو اپنے تعصب اور سوء ظن کو کچھ کم کرتے ہیں ۔ جن لوگوں کو انکار میں غایت درجہ غلو تھا ان کو اولو العزم رسولوں کی توجہ اور دعا بھی کچھ سودمند نہ ہوئی ۔ اور جو آپ اپنے وساوس کے دور کرنے کے لئے مجھے اپنے پاس بُلاتے ہیں ، میرے گمان میں اس آرزو کی بنیا د اخلاص پر نہیں ۔ کیونکہ جس حالت میں آپ میری ملاقات سے بھی گا رہ ہیں تو آپ کو میری ملاقات کچھ فائدہ نہیں دے گی ۔ میرے نزدیک یہ بہتر ہے کہ آپ ایک رسالہ مستقلہ اپنی رائے اور خیال کی تائید میں چھپوا کر میرے پاس بھیج دیں ۔ مگر رسالہ ایسا ہونا چاہیے جس میں وہ سب دلائل مندرج ہوں ۔ جن پر بہ تائید اپنے دعوی کے آپ زور دیتے ہیں ۔ اس طور کی بحث سے پبلک کو بہت فائدہ منصور ہے اور ہر ایک منصف کو بآسانی رائے نکالنے کا موقع مل سکتا ہے۔ آپ کی رائے میں قرآن شریف پہلی کتابوں کا اس طور سے متمم و مکمل ہے کہ جو کچھ پہلی تحریرات سے کچھ زیادہ بیان کرنا قرین مصلحت تھا۔ صرف وہ امر زائد یا کسی قدر مفصل قرآن شریف نے بیان کر دیا ہے ۔ مگر دوسری ہزار ہا صداقتیں کہ جو اچھی طرح پہلی کتابوں میں بیان ہو چکی تھیں ۔ وہ قرآن شریف میں پائی نہیں جاتیں ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہی ارادہ کیا ہے چکی تھیں ۔ دو قرآن شریف میں پائی نہیں کا تیر کہ ان کا اعادہ قرآن شریف میں ضروری نہیں ۔ ان کے لئے پہلی کتابوں کی تلاوت لازم پکڑنی چاہئے ۔ ورنہ ایمان اور علم اور عمل ناقص رہے گا ۔ اب ایک دانشمند سوچ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ