مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 406
مکتوبات احمد ۴۰۶ جلد اول / حسب حال اپنی درخواست کرتا ہوں کہ یہ کتاب بندہ عاجز کو آپ محض خدا کے واسطے عطا فرماویں اگر خدا کی مرضی ہے۔ کیونکہ بندہ کا کچھ اختیار نہیں عاجز حسبتہ اللہ نہ بلحاظ قیمت محض بنظر حصول خوشنودی وہ خداوند تعالیٰ کے لئے جلد ارسال خدمت کرے گا ۔ اگر اب کتاب عطا فرمائی ہو جس قد راب تک طبع ہو چکی ہے ۔ تو ۲۷ جنوری سے پہلے عطا فرمائی جاوے کیونکہ بندہ اس درمیان میں غیر حاضر اپنے مقام سے رہے گا ۔ اپنے وطن قصبہ سرا وہ چو کی کھر کھو وہ ضلع پر گھر میں جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور اگر بعد تاریخ مندرجہ بالا عنایت کرنی ہو تو ۸ فروری تک مقام مندرجہ بالا میں ارسال کرنی چاہئے اور پھر کپورتھلہ میں بھیج دینی مناسب ہے۔ اگر وطن میں پہنچ جاوے گی ، امید ہے وہاں دیکھ کر اور بہت خواہش مند ہوں اور خیالات جو اس عاجز گنہگار کے دل میں واسطے دین کے مستحکم ہوتے تھے ان میں سے اکثر تو مطالعہ کتاب سے ظاہر ہو گیا کہ اس کتاب نے پوری کر دی اور امید ہے کہ اتفاق بھی جیسے ضرورت ہے اس سے پیدا ہوا اور نفاق کی بیخ کنی ہو ۔ مگر یہ خیال کہ عام خاص مسلمان پانچوں شرائط اسلام بجالا یا کریں یا جس میں نقص ہے اس کو پورا کریں تب ترقی ہوگی ۔ اور منجملہ اس کے ایک زکوۃ ہے جواب فرض ہونا اس کا عام لوگوں کے خیالات سے مفقود ہو گیا ہے اس کو زور دیکر رواج دیا جاوے۔ اپنا خیال اکثر واعظوں پر ظاہر کیا گیا اور کئی مرتبہ موقع بہ موقع جتلایا گیا کہ مجلس اور کمیٹی مقرر کر کے کیوں اس کو جاری نہیں کرتے جس سے ایسے اخراجات دینی کے اور چندہ وغیرہ بآسانی دئے جاسکیں ۔ صاحبان امرتسر نے چرم قربانی کا تو مدرسہ اسلامیہ کے لئے جمع کرنا قرار دیا مگر اس طرف توجہ نہیں کی ۔ جناب توجہ باطنی اگر اس پر فرما کر اور دعا اور التجا بجناب باری کر کے خلق کو توجہ دلاویں تو عام خاص اہلِ اسلام کو فائدہ مند ہوگا ۔ خاص اہل اسلام کوفائدہ مند ہوگا۔ اب یہ عاجز گنہگار السلام علیکم پر اس عریضہ کو ختم کر کے التجا کرتا ہے کہ اوقات عزیز میں یاد رکھ کر دعائے خیر بابت درستی دنیا و آخرت کے مشرف فرمائے ۔ معروضه ۲۲ جنوری ۱۸۸۵ ء روز چہارشنبہ ۔ ( پنجشنبه ) عریضه نیاز گنہگار محمد ولی اللہ از کپور تهله