مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 399
مکتوبات احمد ۳۹۹ فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں مجھے ایسے لفظوں سے بھی یا دفرمایا ہے کہ جن کی ہر شخص کو سنے اور سمجھنے کی برداشت نہیں ہوتی ۔ یہ وہی مقام ہے جس کو مقام نبوت کہتے ہیں ۔ بہر حال اس مبسوط مبسوط مکتوب کے بعد حاجی صاحب نے آپ کی خدمت میں ایک خط لکھا جس کو ذیل میں درج کر دیتا ہوں جس میں انہوں نے اپنے اعتراضات کو واپس لے کر اظہار معذرت کیا ۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے ۔ التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهُ ( عرفاني كبير ) *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔* جلد اول L مکتوب نمبر ۵ مخدومی مکرمی اخویم حاجی محمد ولی اللہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ کا جواب بھیجا گیا تھا مگر آج تک انتظار رہا کہ آپ کی طرف سے کوئی جواب آوے تا پورا منشاء خط سابق میں کا ظاہر کیا جاوے ۔آخر جواب سے نا امید ہو کر خود اپنی طرف سے تحریک کی جاتی ہے کہ آں مخدوم کے خط سابق میں اس قدر حرارت اور تلخی بھری ہوئی تھی اور ایسے الفاظ درشت اور ناملائم تھے جن سے بداہت یہ کو آرہی تھی کہ آں مکرم کی بدظنی غایت درجہ کے فساد اور خرابی تک پہنچ گئی ہے۔ اگر کتاب کی کے پہنچ کی غایت درجہ کے فساد اور تک پہنچے خرید وفروخت کا تعلق نہ ہوتا تو ہر گز امید نہ تھی کہ آپ کے قلم سے ایسے الفاظ نکلتے ۔ پس اس سے کا نہ تو کہ ۔ ثابت ہوا کہ ایسے منحوس تعلق نے آپ جیسے بزرگ کی طبیعت کو آشفتہ کیا اور ابھی معلوم نہیں کہ آشفتگی اور پریشان باطنی کہاں تک منجر ہو۔ اور اس عاجز کا حال یہ ہے کہ یہ تمام کاروبار بجز یہ ذات باری عزاسمہ کسی کے بھروسہ پر نہیں ۔ پس اس صورت میں قرین مصلحت ہے کہ فتح بیع اور استرداد قیمت مرسلہ سے آپ کی طبیعت کو ٹھنڈ اور آرام پہنچایا جاوے ۔ کیونکہ اس تمام اشتعال کا بجز اس کے اور کوئی موجب نظر نہیں آتا کہ چند درہم کی جدائی نے جو بہر صورت جدا ہونے والے ہیں آپ کی طبیعت کو تردد و تاسف و پریشانی وحیرت میں ڈال دیا ہے۔ تو اسی ابن ماجه كتاب الزهد باب ذكر التوبة