مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 397
مکتوبات احمد ۳۹۷ جلد اول پس قیامت کے وجود کا مانع صرف صدیقوں کا وجود ہے۔ قرآن شریف خدا کی روحانی کتاب ہے اور صدیقوں کا وجود خدا کی ایک مجسم کتاب ہے۔ جب تک یہ دونوں نہ ملیں انوار ایمانی ظاہر نہیں ہوتے تب تک انسان خدا تک نہیں پہنچتا ۔ فَتَدَبَّرُوا وَتَفَكَّرُوا ۔ (۳) اس کا جواب جواب دوم میں آ گیا ہے ۔ (۴) اول قرآن شریف مجد د کی ضرورت بتلاتا ہے جیسے میں نے ابھی بیان کیا ہے ۔ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ ہے اور ایسا ہی حدیث نبوی بھی مجد د کی ضرورت بتلاتی ہے۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ عَل إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَّنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا۔ اور اجماع سنت و جماعت بھی اس پر ہے ۔ ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مومن نہیں کہ جو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روگرداں ہو سکتا ہے اور قیاس بھی اسی کو چاہتا ہے کیونکہ جس حالت میں خدا تعالیٰ شریعت موسوی کی تجدید ہزار ہا نبیوں کے ذریعہ سے کرتا رہا ہے اور گو وہ صاحب کتاب نہ تھے مگر مجد دشریعت موسوی تھے اور یہ اُمت خیر الامم ہے ۔ قَالَ اللهُ تَعَالَى - كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کے پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس اُمت کو خدا تعالیٰ بالکل گوشه خاطر عاطر سے فراموش کر دے اور باوجود صد ہا خرابیوں کے کہ جو مسلمانوں کی حالت پر غالب ہوگئی ہیں اور اسلام پر بیرونی طور پر حملے ہو رہے ہیں ، نظر اُٹھا کر نہ دیکھی ۔ جو کچھ آج کل اسلام کی حالت ضعیف ہو رہی ہے کسی عاقل پر مخفی نہیں ۔ یعنی تعلیم یافتہ عقائد حقہ سے دست بردار ہوتے جاتے ہیں۔ پُرانے مسلمانوں میں صرف یہودیوں کی طرح ظاہر پرستی یا قبر پرستی رہ گئی ہے۔ ٹھیک ٹھیک رو بخدا کتنے ہیں؟ کہاں ہیں اور کدھر ہیں ؟ (۵) پانچواں سوال میں آپ کا سمجھا نہیں ۔ مجھ سے اچھی طرح پڑھا نہیں گیا۔ (۶) ہر ایک صدی میں کوئی نامی مجدد پیدا ہونا ضروری نہیں ۔ نامی گرامی مجد د صرف اسی ل الحديد : ۱۸ ۲ الحجر : ۱۰ س ابو داؤد كتاب الملاحم باب ما يذكر في قدر قرن المائة ال عمران : ااا