مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 364
مکتوبات احمد ۳۶۴ جلد اول زندیق سمجھتے ہیں پھر وہ ایسی حکومتوں کو کیونکر تسلیم کریں ۔ کیا تم نے سب کو اپنا مرید ہی سمجھ رکھا ہے؟ ذرا عقل سے کام لو۔ کچھ تو شرم کرو۔ دین سے تعلق نہیں رہا تو کیا دنیا سے بھی بے تعلق ہو؟ اس خط کی رسید ڈاکخانہ سے لی گئی ہے۔ وصولی سے انکار کرو گے تو وہ رسید تمہاری مکذب ہوگی ۔ ابوسعید محمد حسین عفا اللہ عنہ ایڈیٹر اشاعۃ السنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جواب آپ کا خط دوسری شوال ۱۳۱۰ھ کو مجھ کو ملا ۔ الحمد لله والمنتہ کہ آپ نے میرے اشتہار مؤرخہ ۳۰ مارچ ۱۸۹۳ء کے جواب میں بذریعہ اپنے خط ۱۸ اپریل ۱۸۹۳ء کے مجھ کو مطلع کیا کہ میں بالمقابلہ عربی عبارت میں تفسیر قرآن لکھنے کو حاضر ہوں ۔ خاص کر مجھے اس سے بہت ہی خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنے خط کی دفعہ ۲ میں صاف لکھ دیا کہ میں تمہاری ہر ایک بات کی اجابت کے لئے مستعد ہوں ۔ سو اس اشتہار کے متعلق باتیں جن کو آپ نے قبول کر لیا ۔ صرف تین ہی ہیں زیادہ نہیں ۔ اوّل یہ کہ ایک مجلس قرار پا کر قرعہ اندازی کے ذریعہ سے قرآن کریم کی ایک سورۃ جس کی آیتیں اسی سے کم نہ ہوں ، تفسیر کرنے کے لئے قرار پاوے۔ اور ایسا ہی قرعہ اندازی کی رُو سے قصیدہ کا بحر تجویز کیا جائے ۔ دوسری یہ کہ وہ وہ تفسیر تفسیر قرآن قرآن کریم کریم کے کے ایسے ایسے حقائق حقائق و و معارف معارف پر پر پر مشتمل ہو جو جدید ہوں اور منقولات کی مد میں داخل نہ ہو سکیں ۔ اور بایں ہمہ عقیدہ متفق علیہا اہل سنت والجماعت سے مخالف بھی نہ ہو۔ اور یہ تفسیر عربی بلیغ فصیح اور متقی عبارت میں ہو۔ اور ساتھ اس کے ننوا شعر عربی بطور قصیدہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں ہو ۔ تیسری یہ کہ فریقین کے لئے چالیس دن کی مہلت ہو۔ اس مہلت میں جو کچھ لکھ سکتے ہیں لکھیں اور پھر ایک مجلس میں سناویں۔ پس جبکہ آپ نے یہ کہہ دیا کہ میں آپ کی ہر ایک بات کی اجابت کیلئے مستعد ہوں تو صاف طور پر کھل گیا کہ آپ نے یہ تینوں باتیں مان لیں۔ اب انشاء اللہ القدیر اسی پر سب فیصلہ ہو جائے گا ۔ آج