مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 358
مکتوبات احمد ۳۵۸ جلد اول میرا زندہ رہنا۔ دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا۔سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا ۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مر جانا ۔ پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر با وجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آ جانا ۔ اب آپ ایمانا کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں؟ اور ذرہ اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیشگوئی سچے ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے ۔ پھر اگر اس پیشگوئی پر جولڑکی کے باپ کے متعلق ہے جو ۳۰ ستمبر ۱۸۹۲ ء کو پوری ہو گئی آپ کا دل نہیں ٹھہرتا ؟ تو آپ اشاعۃ السنہ میں ایک اشتہار حسب اپنے اقرار کے دے دیں کہ اگر یہ دوسری پیشگوئیاں بھی پوری ہو گئیں تو اپنے ظنون باطلہ سے توبہ کروں گا اور دعوٹی میں سچا سمجھ لوں گا اور ساتھ اس کے خدا تعالیٰ سے ڈر کر یہ بھی اقرار کر دیں کہ ایک تو ان میں سے پوری ہو گئی اور اگر اس پیشگوئی کے پورا ہو جانے کا آپ کے دل میں زیادہ اثر نہ ہو تو اس قدر تو ضرور چاہیے کہ جب تک اخیر ظاہر نہ ہو، کفت لسان اختیار کریں۔ جب ایک پیشگوئی پوری ہو گئی تو اس کی کچھ تو ہیت آپ کے دل پر چاہیے ۔ آپ تو میری ہلاکت کے منتظر اور میری رُسوائی کے دنوں کے انتظار میں ہیں اور خدا تعالیٰ میرے دعوی کی سچائی پر نشان ظاہر کرتا ہے۔ اگر آپ اب بھی نہ مانیں تو میرا آپ پر زور ہی کیا ہے لیکن یاد رکھیں کہ انسان اپنے اوائل ایام انکار میں بباعث کسی اشتباہ کے معذور ٹھہر سکتا ہے لیکن نشان دیکھنے پر ہرگز معذور نہیں ٹھہر سکتا ۔ کیا یہ پیشگوئی جو پوری ہوگئی کوئی ایسا اتفاقی امر ہے جس کی خدا تعالیٰ کو کچھ بھی خبر نہیں ۔ کیا بغیر اس کے علم اور ارادہ کے ایک دجال کی تائید میں خود بخود یہ پیشگوئی وقوع میں آگئی؟ کیا یہ سچ نہیں کہ مدعی کا ذب کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔ یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی تو ریت کی ۔ اگر آپ میں انصاف کا کچھ حصہ ہے اور تقویٰ کا کچھ ذرہ ہے تو اب زبان کو بند کر لیں ۔ خدا تعالیٰ کا غضب آپ کے غضب سے بہت بڑا ہے ۔ مَا يَفْعَلُ اللهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَأَمَنْتُمْ والسلام على من اتبع الهدى وما استكبرو ما ابي عاجز ۔ غلام احمد علی اللہ عنہ النساء : ۱۴۸ ، آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۱۹ تا ۳۲۶