مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 349

مکتوبات احمد ۳۴۹ جلد اول قولہ: آپ نے الہامی بیٹا تولد ہونے کی پیشگوئی کی یعنی جھوٹ بولا ۔ اقول: آپ اپنے سفلہ اپنے سے باز نہیں آتے ۔ خدا جانے آپ کسی خمیر کے ہیں ۔ اس پیشگوئی تو میں کونسی دروغ کی بات نکلی ۔ اگر آپ کا یہ مطلب ہے کہ پیشگوئی کے بعد ایک لڑکا پیدا ہوا اور مر گیا کیا آپ یہ ثبوت دے سکتے ہیں کہ کسی الہام میں یہ مضمون درج تھا کہ وہ موعود لڑ کا وہی ہے ۔ اگر دے سکتے ہیں تو وہ الہام پیش کریں ۔ یادر ہے کہ ایسا کوئی الہام نہیں ۔ ہاں اگر میں نے اجتہادی طور پر کہا ہو کہ شاید یہ لڑکا وہی موعود لڑکا ہے تو کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ الہام غلط نکلا؟ آپ کو معلوم نہیں کہ کبھی ملہم اپنے الہام میں اجتہاد بھی کرتا ہے اور کبھی وہ اجتہاد خطا بھی جاتا ہے۔ مگر اس سے الہام کی وقعت اور عظمت میں کچھ فرق نہیں آتا ۔ صدہا مرتبہ ہر ایک کو اتفاق پیش آتا ہے کہ ایک آتا۔ خواب تو سچی ہوتی ہے مگر تعبیر میں غلطی ہو جاتی ہے ۔ یہ ہدایت اور یہ معرفت کا دقیقہ تو خاص قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے لیکن ان کیلئے جو آنکھیں رکھتے ہیں ۔ میں ڈرتا ہوں کہ آج تو آپ نے مجھ پر اعتراض کیا، کبھی ایسا نہ ہو کہ کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کر دیں اور کہیں کہ آنجناب نے جس وحی کی تصدیق کیلئے یعنی طواف کی غرض سے دو سو کوس کا سفر اختیار کیا تھا وہ طواف اس سال نہ ہو سکا اور اجتہادی غلطی ثابت ہوئی ۔ افسوس ! کہ فرط تعصب سے فَذَهَبَ وَهْلِی کی حدیث بھی آپ کو بھول گئی مجھے تو آپ کے انجام کا فکر لگا ہوا ہے۔ دیکھیں کہ کہاں تک نوبت پہنچتی ہے۔ اور لڑکے کی پیشگوئی تو حق ہے، ضرور پوری ہوگی اور آپ جیسے منکروں کو خدا تعالیٰ رُسوا کرے گا۔ اے دشمن حق ! جب کہ تمام پیشگوئیوں کے مجموعی الفاظ یہ ہیں کہ بعض لڑکے فوت بھی ہونگے اور ایک لڑکا خدا تعالیٰ سے ہدایت میں کمال پائے گا تو پھر آپ کا اعتراض اس بات پر کھلی کھلی دلیل ہے کہ اب آپ کا باطن مسخ شدہ ہے۔ یہ تو یہودیوں کے علماء کا آپ نے نقشہ اُتار دیا۔ اب آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ قولہ : اس سے ہر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص بندوں پر جھوٹ بولنے میں دلیر ہو وہ خدا پر جھوٹ بولنے سے کیونکر رک سکتا ہے ۔ اقول : ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی فطرت ان الزامات سے خالی نہیں جن کو آپ بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة فى الاسلام حدیث نمبر ۳۴۲۵ و بخاری کتاب التعبير باب اذاراى بقراً تنحر حدیث نمبر ۶۶۲۹