مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 346

مکتوبات احمد ۳۴۶ جلد اول سی ایس آئی ہیں اور نیز مثل مقدمہ دفتر گورداسپورہ میں موجود ہو گی اور دوسرے واقعہ کا گواہ با بو فتح الدین اور خود وکیل جس کا اس وقت مجھ کو نام یا د نہیں اور نیز وہ منصف جس کا ذکر کر چکا ہوں جواب شایدلد ہیا نہ میں بدل گیا ہے ۔ غالباً اس مقدمہ کو سات برس کے قریب گزرا ہوگا ۔ ہاں یاد آیا اس مقدمہ کا ایک گواہ نبی بخش پٹواری بٹالہ بھی ہے ۔ اب اے حضرت شیخ صاحب ! اگر آپ کے پاس بھی اس درجہ ابتلا کی کوئی نظیر ہو جس میں آپ کی جان اور آبرو اور مال راست گوئی کی حالت میں برباد ہوتا آپ کو دکھائی دیا ہو اور آپ نے سچ کو نہ چھوڑا ہوا اور مال اور جان کی کچھ پرواہ نہ کی ہو تو للہ وہ واقعہ اپنا معہ اس کے کامل ثبوت کے پیش کیجئے ۔ ورنہ میرا تو یہ اعتقاد ہے کہ اس زمانہ کے اکثر ملا اور مولویوں کی باتیں ہی باتیں ہیں ، ورنہ ایک پیسہ پر ایمان بیچنے کو تیار ہیں کیونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کے مولویوں کو بدترین خلائق بیان فرمایا ہے اور آپ کے مجد د صاحب نواب صدیق حسن خان مرحوم مج الکرامہ میں تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ آخری زمانہ یہی زمانہ ہے ۔ سوایسے مولویوں کا زہد و تقویٰ بغیر ثبوت قبول کرنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کی تکذیب لازم آتی ہے ۔ سو آپ نظیر پیش کریں اور اگر پیش نہ کر سکیں تو ثابت ہو گا کہ آپ کے پاس صرف راست گوئی کا دعوی ہے مگر کوئی دعوی بے امتحان قبول کے لائق نہیں ۔ اندرونی حال آپ کا خدا تعالیٰ کو معلوم ہوگا کہ آپ کبھی کذب اور افترا کی نجاست سے ملوث ہوئے یا نہیں یا ان کو معلوم ہو گا جو آپ کے حالات سے واقف ہوں گے۔ جو شخص ابتلا کے وقت صادق نکلتا ہے اور سچ کو نہیں چھوڑتا اس کے صدق پر مہر لگ جاتی ہے۔ اگر یہ مہر آپ کے پاس ہے تو پیش کریں ورنہ خدا تعالیٰ سے ڈریں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کی پردہ دری کرے۔ آپ کی ان بیہودہ اور حاسدا نہ باتوں سے مجھ کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے کہ آپ لکھتے ہیں کہ تم مختاری اور مقدمہ بازی کا کام کرتے بازی کا کام کرتے رہے ہو۔ آپ ان افتراؤں سے باز آ جائیں ۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ یہ عاجز ان پیشوں میں کبھی نہیں پڑا کہ دوسروں کے مقدمات عدالتوں میں کرتا پھرے۔ ہاں والد صاحب کے زمانہ میں اکثر وکلاء کی معرفت اپنی زمینداری کے مقدمات ہوتے تھے اور کبھی ضرور تا مجھے آپ بھی جانا پڑتا تھا۔ مگر آپ کا یہ خیال کہ وہ جھوٹے مقدمات ہوں گے، ایک شیطنت کی بد بو سے بھرا ہوا ہے۔ کیا ہر ایک نالش کرنے والا ضرور جھوٹا مقدمہ کرتا ہے یا ضرور