مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 342
جلد اول ۳۴۲ مکتوبات احمد مذکورہ بالا میرے مقابلہ پر فی الفور آ جاؤ ، تا دیکھا جائے کہ قرآن کریم اور فرمودہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے کون کا ذب اور دجال اور کافر ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر اس تبلیغ کے بعد ہم دونوں میں سے کوئی شخص متخلف رہا اور با وجود اشد غلو اور تکفیر اور تکذیب اور تفسیق کے میدان میں نہ آیا اور شغال کی طرح دُم دبا کر بھاگ گیا تو وہ مندرجہ ذیل انعام کا مستحق ہوگا ۔ لعنته لعنت (۲) (4) (۸) (۹) (۱۰) ل لعنت (1) (۲) (۴) لعنته (۵) لعنت تِلْكَ عَشْرَةٌ كَامِلَةٌ یہ وہ فیصلہ ہے جو خدا تعالیٰ آپ کر دے گا کیونکہ اس کا وعدہ ہے کہ مومن بہر حال غالب رہے گا چنانچہ وہ خودفرماتا ہے ۔ لَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ کا فرمومن پر راہ پاوے اور نیز فرماتا ہے۔ يا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فَرْقَانَا یعنی اے مومنو! اگر تم متقی بن جاؤ تو تم میں اور تمہارے غیر میں خدا تعالیٰ ایک فرق رکھ دے گا ۔ وہ فرق کیا ہے کہ تمہیں ایک نور عطا کیا جائے گا جو تمہارے غیر میں ہرگز نہیں پایا جائے گا ۔ یعنی نورالہام اور نو را جابت دعا اور نور کرامات اصطفا ۔ اب ظاہر ہے کہ جس نے جھوٹ کو بھی ترک نہیں کیا وہ کیونکر خدا تعالیٰ کے آگے متقی ٹھہر سکتا ہے اور کیونکر اس (سے) کرامات صادر ہو سکتی ہیں۔ غرض اس طریق سے ہم دونوں کی حقیقت مخفی کھل جائے گی اور لوگ دیکھ لیں گے کہ کون میدان میں آتا ہے اور کون بموجب آیت کریمہ لَهُمُ الْبُشْرى ہے اور حدیث نبوی اَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا کے کے صادق ثابت ہوتا ہے۔ مع ہذا ایک اور بات بھی ذریعہ آزمائش صادق ہو جاتی ہے جس کو خدا تعالیٰ آپ ہی پیدا کرتا ہے اور وہ یہ ا النساء: ۱۴۲ الانفال: ۳۰ ۳ یونس : ۶۵ مسلم كتاب الرؤيا باب في كون الرؤيا من الله وانها جزء من النبوة حديث نمبر ۵۹۰۵