مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 335

مکتوبات احمد ۳۳۵ مکتوب نمبر ۱۸ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي مخدومی مکرمی حضرت مولوی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ شرائط مندرجہ ذیل ہونی چاہئیں ۔ جلد اول (1) جلسہ بحث آپ کے مکان پر ہو اور امن قائم رکھنے کیلئے تمام انتظامات آپ کے ذمہ ہوگا۔ یہ بات قریب یقین کے ہے کہ چھ سات ہزار آدمی تک اس جلسہ میں جمع ہو جاویں گے۔ ایسا مکان تجویز کرنا آپ کے ہی ذمہ ہوگا ۔ میرے نزدیک یہ بات نہایت ضروری ہوگی کہ کوئی یورپین افسر اس جلسے میں ضرور تشریف رکھتے ہوں کیونکہ اس طرف چند آدمی اور دوسری طرف صد ہا آدمی ہونگے اور اکثر بد زبان اور مکفر ہونگے ۔ بغیر حاضری کسی یورپین کے ہرگز انتظام نہیں ہوسکتا لیکن اگر آپ کے نزدیک یورپین افسر کی ضرورت نہیں تو اوّل مجھے اپنی دستخطی تحریر فرما کرلونگا منہ بندر سے مطلع فرمادیجئے کہ میں کامل انتظام گروہ مفسد خیال لوگوں کا کر لونگا اور ان کا منہ بند رہے گا اور کسی یورپین افسر کی کچھ ضرورت نہیں ہوگی ۔ اس صورت میں میں یہ شرط بھی چھوڑ دونگا پھر اس تحریر کے بعد ہر ایک نتیجہ کے آپ ہی ذمہ دار ہوں گے ۔ (۲) بحث تحریری ہر ایک فریق اپنے ہاتھ سے لکھے اور جو لکھنے سے عاجز ہو وہ اوّل یہ عذر ظاہر کر کے کہ میں لکھنے سے عاجز ہوں ، دوسرے سے لکھا دیوے۔ کیونکہ اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا اوّل درجے پر سند کے لائق ہوتا اور دوسروں کی تحریریں اگر چہ تصدیق کی جائیں مگر پھر بھی اس درجے پر نہیں پہنچتیں کیونکہ ان میں تحریف کا تب کا عذر ہو سکتا ہے۔ (۳) پرچے پانچ ہونے چاہئیں جو صاحب اول لکھے ایک پرچہ زائد ان کا حق ہے اور مولوی محمد حسین صاحب کو اختیار ہوگا ۔ چاہیں وہ پہلا پرچہ لکھنا منظور کر لیں یا اس عاجز کا لکھنا منظور رکھیں ۔ جس طرح پسند کریں مجھے منظور ہے۔ (۴) ہر ایک پرچہ فریقین کی ، ایک ایک نقل بعد دستخط صاحب راقم فریق ثانی کو اسی وقت بلا توقف