مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 333
مکتوبات احمد ۳۳۳ جلد اول کا مسلم ٹھہرے گا تو بھلا پھر کس کی مجال ہے کہ اس سے انکار کر جائے ۔ لیکن اگر قرآن نہ آن شریف سے آپ ثابت نہ کریں گے تو پھر آپ کو اختیار ہو گا کہ بعد تحریری اقرار اس بات کے کہ قرآنی ثبوت پیش کرنے سے ہم عاجز ہیں اور احادیث صحیحہ غیر متعارضہ کو اس ثبوت کیلئے آپ پیش کریں اور جب آپ ایسا ثبوت دے چکیں گے تو منصفین تر از وے انصاف لے کر خود جانچ لیں گے کہ کس طرف پلہ ثبوت بھاری ہے ۔ و ر مئی ۱۸۹۱ء *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔* مکتوب نمبر ۱۷ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي والسلام على من اتبع الهدى را تم میرزا غلام احمد مخدومی مکرمی اخویم حضرت مولوی صاحب سلمہ اللہ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اس عاجز کی گذارش یہ ہے کہ اب فتنہ مخالفت ہر جگہ بڑھتا جاتا ہے اور مولوی محمد حسین صاحب نذارش یہ ہے کہ اب فتنه مخالفت ہر جگہ بڑھتاج جس جگہ پہنچتے ہیں یہی وعظ شروع کی ہے کہ یہ شخص ملحد اور دین سے خارج اور کذاب اور دجال ہے۔ اور اور میں نے اوّل نرمی سے یہ عرض کیا تھا کہ میرا مسیح ہونے کا دعوی مبنی بر الہام ہے اور جو امور محض الہام پر مبنی ہوں وہ زیر بحث نہیں آ سکتے بلکہ خدا تعالیٰ رفتہ رفتہ ان کی سچائی آپ ظاہر کرتا ہے۔ ہاں ! مسیح کی وفات یا حیات کا مسئلہ گو میرے الہام کا اصل الاصول ہے مگر باعث ایک شرعی امر ہونے کے زیر بحث آسکتا ہے اور اگر مسیح کی زندگی ثابت ہو جائے ۔ تو میرا دعوئی مؤخر الذکر خود ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن یہ عرض میری منظور نہیں کی گئی اور اصل حقیقت کو محرف کر کے منشی سعد اللہ صاحب نے جو چاہا چھپوا دیا اور لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے کی کوشش کی اور میرے پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ لیلۃ القدر سے منکر ہیں اور اس کے خلاف اجماع معنی کرتے ہیں۔ اور یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ملائکہ کے وجود سے منکر ہیں اور ملائکہ کو صرف قو تیں سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ یہ سارے الزام محض بہتان ہیں ۔ یہ عاجز اسی