مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 325
مکتوبات احمد ۳۲۵ جلد اول لکھوں اور انہیں دونوں پر چوں پر بحث ختم ہو جائے ۔ اگر آپ کو ایسا منظور ہو تو میں لاہور میں آ سکتا ہوں اور انشاء اللہ تعالی امن قائم رکھنے کیلئے انتظام کرا دوں گا۔ یہی آپ کے رسالہ کا بھی جواب ہے۔ اب اگر آپ نہ مانیں تو پھر آپ کی طرف سے گریز متصور ہو گی ۔ ۱۶ اپریل ۱۸۹۱ء راقم خاکسار غلام احمد از لدهیانه محله اقبال گنج مکرر یہ کہ جس قدر ورق لکھنے کیلئے آپ پسند کر لیں اُسی قدر اوراق پر لکھنے کی مجھے اجازت دی جائے لیکن یہ پہلے سے جلسہ میں تصفیہ پا جانا چاہئے کہ آپ اس قدر اوراق لکھنے کے لئے کافی سمجھتے ہیں ۔ اور آل مکرم اس بات کو خوب یا د رکھیں کہ پرچے صرف دو ہوں گے۔ اوّل آپ کی طرف سے میرے ان دونوں بیانات کا رڈ ہوگا جو میں نے لکھا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں اور نیز یہ کہ حضرت مسیح ابن مریم در حقیقت وفات پا گئے ہیں ۔ پھر اس رڈ کے رڈالرڈ کے لئے میری طرف سے تحریر ہو گی ۔ غرض پہلے آپ کا یہ حق ہوگا کہ جو کچھ ان دعاوی کے بطلان کے لئے آپ کے پاس ذخیرہ نصوص قرآنیہ و حدیثیہ موجود ہے وہ آپ پیش کریں پھر جس طرح خدا تعالیٰ چاہے گا یہ عاجز اس کا جواب ہے یہ دے گا۔ اور بغیر اس طریق کے جس کی انصاف پر بنا اور نیز امن رہنے کیلئے احسن انتظام ہے اور کوئی کے اور طریق اس عاجز کو منظور نہیں ۔ اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو پھر ہماری طرف سے یہ آخری تحریر تصور نظور ۔ یہ منظور نہ ہو تو سے فرماویں اور خود بھی خط لکھنے کی تکلیف روا نہ رکھیں اور بحالت انکار ہرگز کوئی تحریر یا کوئی خط میری طرف نہ لکھیں ۔ اگر پورے اور کامل طور پر بلا کم و بیش میری رائے ہی منظور ہو تو صرف اس حالت میں جواب تحریر فرماویں ، ورنہ نہیں ۔ آج بھوپال سے ایک کارڈ مرقومہ ۹ / اپریل ۱۸۹۱ ء اخویم مولوی محمد احسن صاحب مہتمم مصارف ریاست پڑھ کر آپ کے اخلاق کریمانہ اور مہذبانہ تحریر کا نمونہ معلوم ہو گیا۔ آپ اپنے کارڈ میں فرماتے ہیں کہ میں نے مرزا غلام احمد کے اس دعوی جدید کی اپنے ریویو میں تصدیق نہیں کی بلکہ اس کی تکذیب خود براہین میں موجود ہے ۔ آپ بلا رؤیت مرزا پر ایمان لے آئے ۔ آپ ذرا ایک دفعہ آ کر اس کو دیکھ تو لیں ۔ تَسْمَعُ بِالْمُعِيدِى خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَرَاهُ - اشاعت السنۃ میں اب