مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 315

مکتوبات احمد ۳۱۵ مکتوب نمبر ۸ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي جلد اول از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد عافاه الله واید ہ ۔ بخدمت محبی اخویم مکرم ابو سعید محمد حسین صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ چونکہ یہ عاجز اپنی دانست میں نا تمام مضمون ازالہ الا وہام کا آں مکرم کو دکھلا نا مناسب نہیں سمجھتا اس لئے اجازت نہیں دے سکتا ۔ مگر اس عاجز کی رائے میں صرف ہیں پچھیں روز تک رسالہ ازالة الاوہام چھپ جائے گا ، کچھ بہت دیر نہیں ہے۔ پھر انشاء اللہ القدیر سب سے پہلے یہ عاجز آں مکرم کی خدمت میں بھیج دے گا ۔ آں مکرم کو معلوم ہو گا کہ در ہوگا کہ در حقیقت ان رسالوں میں کوئی نیا دعویٰ نہیں کیا گیا بلکہ بلا کم و بیش یہ وہی دعویٰ ہے جس کا براہین احمد یہ میں بھی ذکر ہو چکا بلاکم ہے۔ جس کی آں مکرم اپنے رسالہ اشاعت السنۃ میں امکانی طور پر تصدیق کر چکے ہیں ۔ پھر متعجب ہوں کہ اب پھر دوسری مرتبہ آں مکرم کو دیکھنے کی حاجت ہی کیا ہے؟ کیا وہی کافی نہیں جو پہلے آں مکرم اشاعۃ السنۃ نمبر ۶ جلدے میں تحریر فرما چکے ہیں ۔ جبکہ اوّل سے آخر تک وہی دعوئی ، وہی مضمون ، وہی بات ہے تو پھر آپ جیسے محقق کی نگاہ میں نیا معلوم ہو ۔ کس قدر تعجب ہے ! یہ عاجز رسالہ ازالہ الاوہام میں آں مکرم کے ریویو کی بعض عبارتیں درج بھی کر چکا ہے۔ اس عاجز نے جو ٫۵جنوری ۱۸۸۸ ء کو خواب دیکھی تھی اُس کی سرخی کمینہ تھا۔ جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ پھر بھی میں آں مکرم کو اللہ نصیحت کرتا ہوں کہ اس سماوی امر میں آپ کا دخل دینا مناسب نہیں ۔ مثیل مسیح کا دعوی کوئی امر عند الشرع مستبعد نہیں ۔ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو اس عاجز کی دانست میں اخویم مولوی حکیم نورالدین صا۔ نورالدین صاحب کے مقابل آپ کی تحریر میں کسی قدر ریختی تھی ۔ خدا تعالیٰ انکسار اور تذلیل کو ہمیشہ پسند کرتا ہے اور علماء کے اخلاق اپنے بھائیوں کے ساتھ سب سے اعلیٰ درجے کے چاہئیں ۔ جس دین کی حمایت اور ہمدردی