مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 303
مکتوبات احمد ۳۰۳ جلد اول اعلیٰ حضرت امام الملہ مسیح موعود کے مکتوبات مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی کے نام محترم ناظرین! یہ خطوط جو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں جہاں تک ہمارا علم جہاں تک ہمارا علم ہے کبھی شائع نہیں ہوئے ۔ مولوی محمد حسین صاحب جب اول اول آمادۂ مخالفت ہوئے ہیں اُس وقت کے یہ مکتوبات ہیں ۔ اور ۱۸۸۷ء کا یہ معاملہ ہے ۔ ان خطوط کو پڑھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ وجہ مخالفت کیا ہوئی ہے؟ اور اعلیٰ حضرت حجتہ اللہ کو اپنے مولیٰ کریم کی وحی پر کس قدر انشراح صدر سے بالبصیرہ یقین کامل ہے ۔ کسی کی مخالفت اور اعتراض کی کچھ پروانہیں ۔ دنیا کی خیالی ذلّت اور عزت سے سروکار نہیں ۔ اصل غرض اعلاء کلمۃ الاسلام ہے اس میں خواہ کوئی ناراض ہو یا خوش ۔ یہ مکتوبات امید ہے کہ ہماری قوم کی ایمانی ترقی کا باعث ہوں گے۔ مکتوب نمبرا (ایڈیٹر ) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي از عائذ بالله الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مکرم مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا اشتہارات تلاش کر کے اور بعض مہمانوں سے لے کر ارسال خدمت ہیں میں بباعث بیماری وجع الا ذن حاضر نہیں ہو سکا کیونکہ مجھ کو در دگوش سے بشدت تکلیف ہے اور اندیشہ تپ بھی ہے اعتراض احباب دربارہ کتب مؤلفہ ایں احقر معلوم نہیں کس صورت سے ہے اگر تو قف طبع کتاب پر ہے تو یہ امر قضاء وقدر حضرت حکیم مطلق سے واقع ہو گیا ہے شاید اس میں یہ مصلحت ہوگی کہ جو کچھ درمیانی کارروائیاں آج تک ہوئی ہیں ان کا وقوع میں آ جانا قبل از طبع کتاب ضروری تھا میں اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوا اور نہ اب ہوں کہ کام طبع کتاب میں توقف ہو لیکن یہ تمام توقفات قادر مطلق کی انواع اقسام کی روکوں سے واقع ہوتی گئی ہیں ۔ الوہیت کے زور یہ