مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 288
مکتوبات احمد ۲۸۸ جلد اول طرف سے ہے شناخت ہوسکتا ہے۔ پس یادر ہے کہ وہی سچا مذہب ہے جس کے ذریعہ سے خدا کا پتہ لگتا ہے ۔ دوسرے مذاہب میں صرف انسانی کوششیں پیش کی جاتی ہیں گویا انسان کا خدا پر احسان ہے جو اس نے اس کا پتہ دیا ۔ مگر اسلام میں خود خدا تعالیٰ ہر ایک زمانہ میں اپنی أَنَا الْمَوْجُودُ کی آواز سے اپنی ہستی کا پتہ دیتا ہے ۔ جیسا کہ اس زمانہ میں بھی وہ مجھ پر ظاہر ہوا۔ پس اس رسول پر ہزاروں سلام اور برکات جس کے ذریعہ سے ہم نے خدا کو شناخت کیا۔ بالآخر میں دوبارہ افسوس سے لکھتا ہوں کہ آپ کا یہ قول کہ حضرت مریم کا اخت ہارون ہونا آپ پر بداثر ڈالتا ہے ۔ میری نگاہ میں آپ کی بہت نا واقفیت ظاہر کرتا ہے۔ اس بیہودہ اعتراض پر پہلے علماء نے بھی بہت کچھ لکھا ہے ۔ اگر استعارہ کے رنگ میں یا اور بنا پر خدا تعالیٰ نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرایا تو آپ کو اس سے کیوں تعجب ہوا۔ جب کہ قرآن شریف بجائے خود بار بار بیان کر چکا ہے کہ ہارون نبی حضرت موسیٰ کے وقت میں تھا اور یہ مریم حضرت عیسیٰ کی والدہ تھی جو چودہ سو برس بعد ہارون کے پیدا ہوئی تو کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان واقعات سے بے خبر ہے اور نعوذ باللہ اس نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرانے میں غلطی کی ہے ۔ کس درجہ کے خبیث طبع یہ لوگ ہیں کہ بیہودہ اعتراض کر کے خوش ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ مریم کا کوئی بھائی ہو جس کا نام ہارون ہو۔ عدم علم سے عدم شئے تو لازم نہیں آتا ۔ مگر یہ لوگ اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتے اور نہیں دیکھتے کہ انجیل کس قدر اعتراضات کا نشانہ ہے ۔ دیکھو یہ کس قدر اعتراض ہے کہ مریم کو ہیکل کی نذر کر دیا گیا تھا تا وہ ہمیشہ بیت المقدس کی خادمہ ہوا اور تمام عمر خاوند نہ کرے۔ لیکن جب چھ سات مہینہ کا حمل نمایاں ہو گیا ۔ تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار گیا۔ سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا ۔ وہی عیسی یا یسوع پیدا ہوا۔ کے نام سے موسوم ہوا ۔ اب اعتراض یہ ہے کہ اگر در حقیقت معجزہ کے طور پر یہ حمل تھا تو کیوں وضع حمل تک صبر نہیں کیا گیا ؟ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ عہد تو یہ تھا کہ مریم مدت العمر ہیکل کی خدمت میں رہے گی پھر کیوں عہد شکنی کر کے اور اس کو خدمت بیت المقدس سے الگ کر کے یوسف نجار کی بیوی بنایا گیا ؟ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ توریت کی رو سے بالکل حرام اور نا جائز تھا کہ حمل کی حالت میں کسی عورت کا نکاح کیا جائے ۔ پھر کیوں خلاف حکم تو ریت مریم کا نکاح عین حمل کی حالت میں یوسف