مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 286

مکتوبات احمد ۲۸۶ جلد اول آخرت میں انواع و اقسام کے رنگوں میں ظاہر ہو گا اور اصل مقصود اس راہ میں یہ ہے کہ اس خدا کی ہستی پر پورا یقین حاصل ہو اور پھر پوری محبت ہو ۔ اب دیکھنا چاہئے کہ کونسا مذہب اور کونسی کتاب ہے جس کے ذریعہ سے یہ غرض حاصل ہو سکتی ہے۔ انجیل تو صاف جواب دیتی ہے کہ مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے اور یقین کرنے کی راہیں مسدود ہیں اور جو کچھ ہوا وہ پہلے ہو چکا اور آگے کچھ نہیں ۔ مگر تعجب کہ وہ خدا جواب تک اس زمانہ میں بھی سنتا ہے ۔ وہ اس زمانہ میں بولنے سے کیوں عاجز ہو گیا ہے؟ کیا ہم اس اعتقاد پر تسلی پکڑ سکتے ہیں کہ پہلے کسی زمانہ میں وہ بولتا بھی تھا اور سنتا بھی مگر اب وہ صرف سنتا ہے مگر بولتا نہیں ۔ ایسا خدا کس کام کا جو ایک انسان کی طرح جو بڑھا ہو کر بعض قومی اس کے بیکار ہو جاتے ہیں ۔ امتداد زمانہ کی وجہ سے بعض قومی اس کے بھی بیکا ر ہو گئے اور نیز ایسا خدا کس کام کا کہ جب تک ٹکٹکی سے باندھ کر اس کو کوڑے نہ لگیں اور اس کے منہ پر نہ تھوکا جائے اور چند روز اس کو حوالات میں نہ رکھا جائے اور آخر اس کو صلیب پر نہ کھینچا جائے ۔ تب تک وہ اپنے بندوں کے گناہ نہیں بخش سکتا ۔ ہم تو ایسے خدا سے سخت بیزار ہیں جس پر ایک ذلیل قوم یہودیوں کی جو اپنی حکومت بھی کھو بیٹھی تھی غالب آگئی ۔ ہم اس خدا کو سچا خدا جانتے ہیں جس نے ایک مکہ کے غریب بے کس کو اپنا نبی بنا کر اپنی قدرت اور غلبہ کا جلوہ اسی زمانہ میں تمام جہان کو دکھا دیا۔ یہاں تک کہ جب شاہ ایران نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے اپنے سپاہی بھیجے تو اس قادر خدا نے اپنے رسول کو فرمایا کہ سپاہیوں کو کہہ دے کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خدا وند کو قتل کر دیا ہے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ ایک طرف ایک شخص خدائی کا دعوی کرتا ہے اور اخیر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گورنمنٹ رومی کا ایک سپاہی اس کو گرفتار کر کے ایک دو گھنٹہ میں جیل خانہ میں ڈال دیتا ہے اور تمام کی وہ مرد کر رات کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور دوسری طرف وہ مرد ہے کہ صرف رسالت کا دعویٰ کرتا ہے اور خدا اس کے مقابلہ پر بادشاہوں کو ہلاک کرتا ہے ۔ یہ مقولہ طالب حق کے لئے نہایت نافع ہے کہ یار غالب شوکه تا غالب شوی ۔ ہم ایسے مذہب کو کیا کریں جو مُردہ مذہب ہے ۔ ہم ایسی کتاب سے کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو مُردہ کتاب ہے۔ اور ہمیں ایسا خدا کیا فیض پہنچا سکتا ہے جو مردہ خدا ہے ۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اپنے خدائے پاک کے یقینی اور قطعی مکالمہ سے مشرف ہوں اور قریباً ہر روز مشرف ہوتا ہوں اور وہ خدا جس کو یسوع مسیح کہتا ہے کہ تو نے