مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 281
مکتوبات احمد ۲۸۱ جلد اول ہے مگر اس شرط سے کہ عفو کرنا قرین مصلحت ہوا اور کبھی مناسب محل اور وقت کے مجرم کو سزا دینے کے لئے فرماتا ہے۔ پس در حقیقت قرآن شریف خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے ہے۔ یہ بات نہایت معقول ہے کہ خدا کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں ۔ یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے۔ ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے۔ نہ یہ کہ فعل سے کچھ اور ظاہر ہو اور قول سے کچھ اور ظاہر ہو۔ خدا تعالیٰ کے فعل میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ نرمی اور درگذر نہیں بلکہ وہ مجرموں کو طرح طرح کے عذابوں سے سزا یاب بھی کرتا ہے۔ ایسے عذابوں کا پہلی کتابوں میں بھی ذکر ہے ۔ ہمارا خدا صرف حلیم خدا نہیں بلکہ وہ حکیم بھی ہے اور اس کا قہر بھی عظیم ہے ۔ سچی کتاب وہ کتاب ہے جو اس کے قانونِ قدرت کے مطابق ہے اور سچا قول الہی وہ ہے جو اس کے فعل کے مخالف نہیں ۔ ہم نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا کہ خدا نے اپنی مخلوق کے ساتھ ہمیشہ حلم اور درگزر کا معاملہ کیا ہوا اور کوئی عذاب نہ آیا ہو۔ اب بھی نا پاک طبع لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ایک عظیم الشان اور ہیبت ناک زلزلہ کی خبر دے رکھی ہے جو اُن کو ہلاک کرے گا اور طاعون بھی ابھی دور نہیں ہوئی ۔ پہلے اس سے نوح کی قوم کا کیا حال ہوا ؟ لوڈ کی قوم کو کیا پیش آیا؟ سو یقیناً سمجھو کہ شریعت کا مَا حَصَل تَخَلُقُ بِاخْلاقِ الله ہے یعنی خدائے عزوجل کے اخلاق اپنے اندر حاصل کرنا یہی کمال نفس ہے۔ اگر ہم یہ چاہیں کہ خدا سے بھی بڑھ کر کوئی نیک خلق ہم میں پیدا ہو تو یہ بے ایمانی اور پلید رنگ کی گستاخی ہے اور خدا کے اخلاق پر ایک اعتراض ہے۔ اور پھر ایک اور بات پر بھی غور کرو کہ خدا کا قدیم سے قانون قدرت ہے کہ وہ تو بہ اور استغفار سے گناہ معاف کرتا ہے اور نیک لوگوں کی شفاعت کے طور پر دعا بھی قبول کرتا ہے ۔ مگر یہ ہم نے خدا کے قانون قدرت میں کبھی نہیں دیکھا کہ زید اپنے سر پر پتھر مارے اور اس سے بکر کی دردسر جاتی رہے۔ پھر ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کی خودکشی سے دوسروں کی اندرونی بیماری کا دور ہونا کس قانون پر مبنی ہے اور وہ کون سا فلسفہ ہے جس سے ہم معلوم کر سکیں کہ مسیح کا خون کسی دوسرے کی اندرونی ناپاکی کو دور کر سکتا ہے۔ بلکہ مشاہدہ اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے کیونکہ جب تک مسیح نے خود کشی کا ارادہ نہیں کیا تھا ۔ تب تک عیسائیوں میں نیک چلنی اور خدا پرستی کا مادہ تھا۔ مگر صلیب کے