مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 278

مکتوبات احمد ۲۷۸ جلد اول یادر ہے کہ دنیا میں صرف قرآن شریف ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کی طرف سے معجزہ ہونے کا دعوی پیش ہوا اور بڑے زور سے یہ دعوی کیا گیا کہ اس کی خبریں اور اس کے قصے سب غیب گوئی ہے اور آئندہ کی خبریں بھی قیامت تک اس میں درج ہیں اور وہ اپنی فصاحت بلاغت کی رو سے بھی معجزہ ہے۔ پس عیسائیوں کے لئے اس وقت یہ بات نہایت سہل تھی کہ وہ بعض قصے نکال کر پیش کرتے کہ ان کتابوں سے قرآن شریف نے چوری کی ہے۔ اس صورت میں اسلام کا تمام کا روبار سرد ہو جاتا ۔ مگر اب تو بعد از مرگ واویلا ہے۔ عقل ہرگز ہرگز قبول نہیں کر سکتی کہ اگر عرب کے عیسائیوں کے پاس در حقیقت ایسی کتابیں موجود تھیں جن کی نسبت گمان ہو سکتا تھا تھا کہ ان کتابوں سے قرآن شریف نے قصے لئے ہیں ۔ خواہ وہ کتا بیں اصلی تھیں یا فرضی تھیں ۔ تو عیسائی اس پردہ دری ۔ سے چپ رہتے؟ پس بلا شبہ قرآن شریف کا سارا مضمون وحی الہی سے ہے اور وہ وحی ایسا عظیم الشاء معجزہ تھا کہ اس کی نظیر کوئی شخص پیش نہ کر سکا اور سوچنے کا مقام ہے کہ جو شخص دوسری کتابوں کا چور ہو اور خود مضمون بناوے اور جانتا ہے کہ فلاں فلاں کتاب سے میں نے یہ مضمون لیا ہے اور غیب کی باتیں نہیں ہیں اس کو کب جرات اور حوصلہ ہو سکتا ہے کہ تمام جہان کو مقابلہ کے لئے بلاوے اور پھر کوئی بھی مقابلہ نہ کرے اور کوئی اس کی پردہ دری پر قادر نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ عیسائی قرآن شریف پر بہت ہی ناراض ہیں اور ناراض ہونے کی وجہ یہی ہے کہ قرآن شریف نے تمام پر و بال عیسائی مذہب کے توڑ دیئے ہیں۔ ایک انسان کا خدا بننا باطل کر کے دکھلا دیا۔ صلیبی عقیدہ کو پاش پاش کر دیا اور انجیل کی وہ تعلیم جس پر عیسائیوں کو ناز تھا ۔ نہایت درجہ ناقص اور نکتا ہونا اس کا بپا ئیہ ثبوت پہنچا دیا ۔ تو پھر عیسائیوں کا جوش ضرور نفسانیت کی وجہ سے ہونا چاہئے تھا ۔ پس جو کچھ وہ افترا کریں تھوڑا ہے جو شخص مسلمان ہو کر پھر عیسائی بننا چاہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی لے قرآن شریف نے تو اپنی نسبت معجزہ اور بے مثل ہونے کا دعوی کر کے اپنی بریت اس طرح پر ثابت کر دی کہ بلند آواز نسبت معجزہ اور بے ہونے کا دعوی کر کے اپنی بریت اس طرح پر سے کہہ دیا کہ اگر کوئی اس کو انسانی کلام سمجھتا ہے تو وہ جواب دے لیکن تمام مخالف خاموش رہے ۔ مگر انجیل کو تو اسی زمانہ میں یہودیوں نے مسروقہ قرار دیا تھا اور نہ انجیل نے دعوی کیا کہ انسان ایسی انجیل بنانے پر قادر نہیں۔ پس مسروقہ ہونے کے شکوک انجیل پر عائد ہو سکتے ہیں نہ قرآن شریف پر ۔ کیونکہ قرآن کا تو دعوی ہے کہ انسان ایسا قرآن بنانے پر قادر نہیں اور تمام مخالفین نے چپ رہ کر اس دعوی کا سچا ہونا ثابت کر دیا۔ منہ