مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 265
مکتوبات احمد ۲۶۵ جلد اول کر تمام عیسائیوں کا شفیع بن گیا مگر بیچارہ کبوتر کو اس شفاعت سے کچھ حصہ نہ ملا جس کی بوٹی بوٹی ہمیشہ دانتوں کے نیچے پیسی جاتی ہے۔ چنانچہ ہم نے بھی کل ایک سفید کبوتر کھایا تھا لہذا روح القدس کی تائید سے یہ تحریک پیدا ہوئی ۔ اور انسائیکلو پیڈیا میں جو پانچ سو قسم کبوتر کی لکھی ہے، یہ بھی میری رائے میں ناقص ہے کیونکہ اس میں اس کبوتر کو شامل نہیں کیا گیا جس کی شبیہ میں عیسائیوں کا خدا ظاہر ہوا تھا۔ اس لئے اس بیان کی یوں تصحیح کرنی چاہئے کہ کبوتر کی اقسام ۵۰۱ ہیں اور اس کی تصریح کر دینی چاہئے کہ یہ ایک نئی قسم وہ داخل کی گئی ہے جس میں خدا مسیح پر نازل ہوا تھا۔ L میں ایسے شخص کا سخت دشمن ہوں کہ جو کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر پھر خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں ۔ گو میں مسیح ابن مریم کو اس تہمت سے پاک قرار دیتا ہوں کہ اُس نے کبھی خدائی کا دعویٰ کیا تاہم میں دعویٰ کرنے والے کو تمام گنہگاروں سے بدتر سمجھتا ہوں ۔ میں جانتا ہوں اور مجھے دکھایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم اس تہمت سے بری اور راستباز ہے اور اس نے کئی دفعہ مجھ سے ملاقات کی لیکن ہر ایک دفعہ اپنی عاجزی اور عبودیت ظاہر کی۔ ایک دفعہ میں نے اور اس نے عالم کشف میں جو گویا بیداری کا عالم تھا ، ایک جگہ بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا اور اس نے اپنی فروتنی اور محبت سے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ میرا بھائی ہے اور میں نے بھی محسوس کیا کہ وہ میرا بھائی ہے۔ تب سے میں اس کو اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوں ۔ سو جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کے موافق میرا یہی عقیدہ ہے کہ وہ میرا بھائی ہے گو مجھے حکمت اور مصلحت الہی نے اس کی نسبت زیادہ کام سپرد کیا ہے اور اس کی نسبت زیادہ فضل اور کرم کے وعدے دئے ہیں ، مگر پھر بھی میں اور وہ روحانیت کی رو سے ایک ہی جو ہر کے دوٹکڑے ہیں ، اسی بنا پر میرا آنا اسی کا آنا ہے۔ جو مجھ سے انکار کرتا ہے وہ اس سے بھی انکار کرتا ہے۔ اس نے مجھے دیکھا اور خوش ہوا ۔ پس وہ جو مجھے دیکھتا اور نا خوش ہوتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ نہ مجھ میں سے اور نہ مسیح ابن مریم میں سے ۔ اور مسیح ابن مریم مجھ میں سے ہے اور میں خدا سے ہوں ۔ مبارک وہ جو مجھے پہچانتا ہے اور بد قسمت وہ جس کی آنکھوں سے میں پوشیدہ ہوں ۔ خاکسار مرزاغلام احمد قادیانی ا تذکرہ صفحہ ۴۳۹ ۔ ایڈیشن چہارم حه ریویو آف ریلیجنز اردو نمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۳۹ تا ۳۴۸