مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 258

مکتوبات احمد ۲۵۸ جلد اول کے عزیز تھے یا جن میں اس مالک کا قیمتی اسباب مقفل تھا خود بخود استعمال میں لانے لگا اور اس سرائے کو اپنا گھر بنالیا اور پھر اسی پر کفایت نہ کی بلکہ اس گھر سے اس مالک کے عزیزوں کو نکال دیا اور مقفل مکانوں کے قفل تو ڑ دیئے اور تمام اسباب پر اپنا قبضہ کر لیا۔ اب ما لک جو صرف اس گھر کا مالک نہیں بلکہ اس ملک کا بادشاہ بھی ہے ، جب اس شہر میں آئے گا اور اس ظلم اور شوخی کو دیکھے گا تو کیا ا کرے گا ؟ اس کا یہی جواب ہے کہ جو کچھ مقتضا اس کی سلطنت اور غیرت اور جبروت کا ہے سب کچھ عمل میں لائے گا اور اس گھر کو اس ظالم سے خالی کرا کر پھر اپنے مظلوم عزیزوں کو اس میں داخل کرے گا اور وہ تمام مال جو غصب کیا گیا ان کو دے گا اور وہ مسافر خانہ بھی انہیں کو عطا کر دے گا تا آئندہ ان کی مرضی کے برخلاف کوئی اس میں زیادہ ٹھہر نہ سکے ۔ اسی طرح اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ (وہ) تمام مذہبی جھگڑوں کا فیصلہ کر دیوے۔ انسانوں میں بہت سی لڑائیاں ہوئیں، بہت سے جنگ ہوئے لیکن ان کے جنگوں یا جہادوں سے یہ جھگڑا فیصلہ نہ ہو سکا ۔ آخران کی تلواریں ٹوٹ کر رہ گئیں ۔ اس سے انسانوں کو یہ سبق ملا کہ مذہبی جھگڑوں کا تلوار فیصلہ نہیں کر سکتی ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ اب آسمانی فیصلہ نزدیک ہے کیونکہ خدائے غیور کی زمین پر نہایت تحقیر ہو رہی ہے۔ ہر ایک عیسائی مشنری یہ جوش اپنے دل میں رکھتا ہے کہ وہ خدا جس کی نسبت تو ریت میں اب تک صحیح تعلیم موجود ہے، اس کو بالکل معطل کر کے ابن مریم کو اس کا تخت دیا جائے اور دنیا میں ایک بھی اس خدا کا نام لیوا نہ ہو اور ہر ایک قوم کے منہ سے اور ہر ایک ملک سے یہی آواز نکلے کہ یسوع مسیح خدا اور رب العالمین اور خداوندوں کا خداوند ہے ۔ اور یہ صرف آرزو نہیں بلکہ یسوع کو خدا بنانے کیلئے جس قدر روپیہ صرف کیا گیا ہے ، جس قدر کتا بیں لکھی گئیں ہیں ، جس قدر ہر ایک تدبیر کی گئی دنیا کی ابتداء سے آج تک اس کی نظیر موجود نہیں ۔ اور افسوس کہ ایک مدت سے مسلمانوں کی یہ عادت ہے کہ معقول اور سیدھے طور پر اس مذہب کا مقابلہ نہیں کرتے بلکہ اگر خاص مجمعوں میں کبھی یہ ذکر آتا ہے تو بڑا ذریعہ اپنی ترقی کا جہاد کو ٹھہراتے ہیں اور ایک ایسے زمانہ کے منتظر ہیں کہ گویا اس وقت ان کا کوئی مہدی اور مسیح تلوار سے تمام قوموں کو نابود کر دے گا ۔ گویا وہ اعتراض جو نادانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر کیا تھا اس کا جواب بھی آخر کار تلوار ہی ہوگا ۔ میری دانست میں یہی سبب مسلمانوں کے تنزل کا ہے کہ انسانی رحم کی قوت ان کے دلوں سے بہت گھٹ گئی ہے۔ میں ہر