مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 240

مکتوبات احمد ۲۴۰ جلد اول جس کے لئے قدرت سخت گوئی شرط ہے۔ حقیقی عفو، جس کے لئے قدرت انتقام شرط ہے ۔ حقیقی شجاعت ، جس کے لئے خوفناک دشمنوں کا مقابلہ شرط ہے۔ حقیقی عدل ، جس کے لئے قدرت ظلم ظلم شرط ہے۔ حقیقی رحم ، جس کے لئے قدرت سزا شرط ہے اور اعلیٰ درجہ کی زیر کی اور اعلیٰ درجہ کا حافظہ اور اعلیٰ درجہ کی فیض رسانی اور اعلیٰ درجہ کی استقامت اور اعلیٰ درجہ کا احسان جن کے لئے نمونے اور نظیریں شرط ہیں ۔ پس اس قسم کی صفات فاضلہ میں مقابلہ اور مواز نہ ہونا چاہئے نہ صرف ترک شر میں ، جس کا بشپ صاحب معصومیت نام رکھتے ہیں ۔ کیونکہ نبیوں کی نسبت یہ خیال کرنا بھی گناہ ہے کہ انہوں نے چوری ڈاکہ وغیرہ کا موقع پا کر اپنے تئیں بچایا یا یہ جرائم ان پر ثابت نہ ہو سکے بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ مجھے نیک مت کہہ یہ ایک ایسی وصیت تھی جس پر پادری صاحبوں کو عمل کرنا چاہئے تھا۔ اگر بشپ صاحب تحقیق حق کے در حقیقت شائق ہیں تو اس مضمون کا اشتہار دے دیں کہ ہم مسلمانوں سے اس طریق سے بحث کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں نبیوں میں سے کمالات ایمانی و اخلاقی و برکاتی و تاثیراتی و قولی و فعلی و ایمانی و عرفانی و علمی و تقدسی اور طریق معاشرت کی روسے کون نبی افضل واعلیٰ ہے ۔ اگر وہ ایسا کریں اور کوئی تاریخ مقررہ کر کے ہمیں اطلاع دیں تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص تاریخ مقررہ پر ضرور جلسه قراردادہ پر حاضر ہو۔ جائے گا ، ور نہ یہ طریق محض ایک دھوکہ دینے کی راہ ہے جس کا یہی جواب کافی ہے اور اگر وہ قبول کر لیں تو یہ شرط ضروری ہو گی کہ ہمیں پانچ گھنٹہ سے کم وقت نہ دیا جائے ۔ ۲۵ رمتی ۱۹۰۰ء راقم خاکسار مرزاغلام احمد از قادیان لے ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۳۷۹ تا ۳۸۳)