مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 231

مکتوبات احمد ۲۳۱ جلد اول لوگوں نے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دی۔ کونسی تو ہین ہے جو اس جناب کی آپ لوگوں نے نہیں کی ۔ نہ ایک نہ دو بلکہ ہزاروں کتا بیں آپ لوگوں کے ہاتھ سے ایسی نکلی ہیں جو گالیوں سے بھری ہوئی ہیں ۔ اگر وہی الفاظ آپ صاحبوں کے باپ یا ماں یا یسوع کی نسبت استعمال کئے جائیں تو کیا آپ برداشت کر سکتے ہیں ؟ ہمارے دلوں کو آپ لوگوں نے ایسا دکھایا جس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی ۔ یہ مردہ پرستی کی شامت ہے کہ آپ لوگوں کے دلوں سے راستبازی کا نور بالکل جاتا رہا۔ ہر ایک سوال شرارت کے ساتھ ملا کر بیان کیا جاتا ہے ہر ایک اعتراض میں افتراء کی ملونی سے رنگ دیا جاتا ہے ۔ ہر ایک بات ٹھٹھے اور ہنسی سے مخلوط ہوتی ہے ۔ کیا یہ نیک انسانوں کا کام ہے؟ پھر جس حالت میں آپ اُس عالی جناب کی عزت نہیں کرتے جس کو زمین و آسمان کے خالق نے عزت دے رہی ہے اور ۔ رکھی ہے اور جس کے آستانہ پر پچانوے کروڑ آدمی سر جھکاتے ہیں ( نئی تحقیقات سے مسلمانوں کی تعداد ۹۵ کروڑ تمام روئے زمین پر ثابت ہوئی ہے ) پھر آپ ہم سے کس عزت کو چاہتے ہیں؟ ہم نے بہتیرا چاہا کہ آپ لوگ تہذیب سے پیش آویں تا ہم بھی تہذیب سے پیش آویں مگر آپ لوگ ایسا کرنا نہیں چاہتے ۔ کیا یہ صیح نہیں ہے کہ جن اعتراضات کو آپ تہذیب اور نرمی سے پیش کر سکتے ہیں ان کو آپ تو ہین اور تحقیر سے پیش کرتے ہیں ۔ مثلاً زینب کے قصہ میں جو متبنی کی بیوی کو نکاح میں لانا آپ لوگوں کی نظر میں محل اعتراض ہے اور اس اعتراض کو دل دکھانے کیلئے تو ہین اور تحقیر کے پیرا یہ میں پیش کرتے ہیں ۔ اگر آپ کے دل میں طلب حق اور زبان میں تہذیب ہو تو اس طور سے اعتراض پیش کریں کہ ہماری توریت اور انجیل کی رو سے متبنی کی بیوی سے نکاح کرنا : حرام ہے اور توریت انجیل کی رو سے جس مرد کو بیٹا کہا جاوے یا عورت کو بیٹی کہا جائے تو اس مرد کی بیوی حرام ہو جاتی ہے اور ایسی عورت کو نکاح میں لانا حرام ہو جاتا ہے ۔ یا اگر نکاح میں ہو تو اس پر یا طلاق پڑ جاتی ہے اور نیز فلاں فلاں عقلی دلیل سے ثابت ہے کہ متبنی اصل بیٹے کی مانند ہو جاتا ہے مگر اسلام نے متبنی کی بیوی سے بعد طلاق نکاح جائز رکھا ہے۔ تو ایسے اعتراض سے کوئی مسلمان ناراض نہ ہو یا مثلاً کثرت ازدواج پر آپ اعتراض کریں اور نرمی سے توریت اور انجیل کی آیات ثبوت میں لکھیں کہ صریح ان کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک سے زیادہ بیوی کرنا حرام ہے اور جو شخص ایسا کرتا ہے وہ زنا کرتا ہے۔ اور معقول طور سے بھی دوسری بیوی کی کوئی ضرورت نہیں معلوم ہوئی تو اس اعتراض