مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 219

مکتوبات احمد ۲۱۹ جلد اول ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے در حقیقت تین قسم پر منقسم ہیں ۔ اوّل وہ لوگ جو بباعث محجو بیت اور رؤیت اسباب کے احسان الہی کا اچھی طرح ملاحظہ نہیں کرتے اور نہ وہ جوش ان میں پیدا ہوتا ہے جو احسان کی عظمتوں پر نظر ڈال کر پیدا ہوا کرتا ہے اور نہ وہ محبت ان میں حرکت کرتی ہے جو محسن کی عنایات عظیمہ کا تصور کر کے جنبش میں آیا کرتی ہے بلکہ صرف ایک اجمالی نظر سے خدا تعالیٰ کے حقوق خالقیت وغیرہ کو تسلیم کر لیتے ہیں اور احسان الہی کی ان تفصیلات کو جن پر ایک بار یک نظر ڈالنا اس حقیقی محسن کو نظر کے سامنے لے آتا ہے ہرگز مشاہدہ نہیں کرتے کیونکہ اسباب پرستی کا گرد و غبار مسبب حقیقی کا پورا چہرہ دیکھنے سے روک دیتا ہے ۔ اس لئے ان کو وہ صاف نظر میسر نہیں آتی ۔ جس سے کامل طور پر معطی حقیقی کا جمال مشاہدہ کر سکتے ۔ سوان کی ناقص معرفت رعایت اسباب کی کدورت سے ملی ہوئی ہوتی ہے اور بوجہ اس کے جو وہ خدا کے احسانات کو اچھی طرح دیکھ نہیں سکتے ۔ خود بھی اس کی طرف وہ التفات نہیں کرتے جو احسانات کے مشاہدہ کے وقت کرنی پڑتی ہے جس سے محسن کی شکل نظر کے سامنے آ جاتی ہے بلکہ ان کی معرفت ایک دھندلی سی ہوتی ہے۔ وجہ یہ کہ وہ کچھ تو اپنی محنتوں اور اپنے اسباب پر بھروسہ رکھتے ہیں اور کچھ تکلف کے طور پر یہ بھی مانتے ہیں کہ خدا کا حق خالقیت اور رزاقیت ہمارے سر پر واجب ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ انسان کو اس کی وسعت فہم سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اس لئے ان سے جب تک کہ وہ اس حالت میں ہیں ، یہی چاہتا ہے کہ اس کے حقوق کا شکر ادا کریں اور آیت اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ میں عدل سے مراد یہی اطاعت برعایت عدل ہے مگر اس سے بڑھ کر ایک اور مرتبہ انسان کی معرفت کا ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں ۔ انسان کی نظر رؤیت اسباب سے بالکل پاک اور منزہ ہو کر خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ہاتھ کو دیکھ لیتی ہے اور اس مرتبہ پر انسان اسباب کے حجابوں سے بالکل باہر آ جاتا ہے اور یہ مقولہ کہ مثلاً میری اپنی ہی آبپاشی سے میری کھیتی ہوئی اور یا میرے اپنے ہی بازو سے یہ کامیابی مجھے ہوئی یا زید کی مہربانی سے فلاں مطلب میرا پورا ہوا اور بکر کی خبر گیری سے میں تباہی سے بچ گیا۔ یہ تمام باتیں پیچ اور باطل معلوم ہونے لگتی ہیں اور ایک ہی ہستی اور ایک ہی قدرت اور ایک ہی محسن اور ایک ہی ہاتھ نظر آتا ہے ۔ تب انسان ایک صاف نظر سے جس کے ساتھ ایک ذرہ شرک فی الاسباب کی گرد و غبار نہیں ۔ خدا تعالیٰ کے احسانوں کو دیکھتا ہے۔ اور یہ رؤیت اس قسم کی صاف