مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 217
مکتوبات احمد ۲۱۷ جلد اول نسبت ہر گز ممکن نہیں ۔ ہاں مومن کافر پر شفقت کرے گا اور تمام دقائق ہمدردی بجالائے گا اور اس کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا غمگسار ہوگا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ بغیر لحاظ مذہب ملت کے تم لوگوں سے ہمدردی کرو۔ بھوکوں کو کھلاؤ۔ غلاموں کو آزاد کرو ۔ قرض داروں کے قرض دو اور زیر باروں کے بار اٹھاؤ اور بنی نوع سے سچی ہمدردی کا حق ادا کرو۔ اور فرماتا ہے إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَائِ ذِي الْقُرْبى یعنی خدا تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ دیتا ہے کہ عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ کہ احسان کرو۔ جیسے بچہ سے اُس کی والدہ ۔ یا کوئی اور شخص محض قرابت کے جوش سے کسی کی ہمدردی کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے لَا يَنْهُكُمُ الله عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ کے یعنی نصاری وغیرہ سے جو خدا نے محبت کرنے سے ممانعت فرمائی تو اس سے یہ نہ سمجھو کہ وہ نیکی اور احسان اور ہمدردی کرنے سے تمہیں منع کرتا ہے۔ نہیں بلکہ جن لوگوں نے تمہارے قتل کرنے کیلئے لڑائیاں نہیں کیں اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نہیں نکالا وہ اگر چہ عیسائی ہوں یا یہودی ہوں ۔ بے شک ان پر احسان کرو ان سے ہمدردی کرو۔ انصاف کرو کہ خدا ایسے لوگوں سے پیار کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے إِنَّمَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قُتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ کے یعنی خدا نے جو تمہیں ہمدردی اور دوستی سے منع کیا ہے تو صرف ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے دینی لڑائیاں تم سے کیں اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نکالا اور بس نہ کیا جب تک باہم مل کر تمہیں نکال نہ دیا۔ سوان کی دوستی حرام ہے کیونکہ یہ دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔ اس جگہ یاد رکھنے کے لائق ایک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تَوَلّی عربی زبان میں دوستی کو کہتے ہیں ۔ جس کا دوسرا نام مودت ہے اور اصل حقیقت دوستی اور مودت کی خیر خواہی اور ہمدردی ہے۔ سومومن نصاری اور یہود اور ہنود سے دوستی اور ہمدردی اور خیر خواہی کر سکتا ہے احسان کر سکتا ہے مگر ان سے محبت نہیں ا النحل: ۹۱ - الممتحنه : ٣٩ الممتحنه: ١٠ تَوَلّی کی تا اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تَوَلّی میں ایک تکلف ہے ۔ جو مغان مغائرت پرد پر دلالت کرتا ہے مگر محبت میں ایک ذرہ مغائرت باقی نہیں رہتی ۔ منہ