مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 200
مکتوبات احمد ۲۰۰ جلد اول اسی میں ہے۔ اب آپ کو معلوم ہے کہ جو قو میں ناحق ستاویں اور دکھ دیویں اور خونریزیاں کریں۔ اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کریں ۔ جیسا کہ مکہ والے کافروں نے کیا تھا اور پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی ۔ مگر آپ تو تعصب کے گڑھے میں گرے ہیں ۔ ان پاک باتوں کو کیونکر سمجھیں ۔ انجیل میں اگر چہ لکھا ہے کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو۔ مگر یہ نہیں لکھا کہ دشمن قوموں کی دشمنی اور ظلم تمہیں انصاف اور سچائی سے مانع نہ ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے۔ مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے۔ اکثر لوگ اپنے شریک دشمنوں سے محبت تو کرتے ہیں ۔ اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں ۔ مگر ان کے حقوق دبا لیتے ہیں۔ ایک بھائی دوسرے بھائی سے محبت کرتا ہے اور محبت کے پردہ میں دھوکا دے کر اس کے حقوق دبا لیتا ہے ۔ مثلاً اگر زمیندار ہے تو چالاکی سے اس کا نام کا غذات بندو بست ہیں نہیں لکھواتا۔ اور یوں اتنی محبت کہ اس پر قربان ہوا جاتا ہے ۔ پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں محبت کا ذکر نہ کیا ۔ بلکہ معیار محبت کا ذکر کیا۔ کیونکہ جو شخص ا۔ اپنے جانی دشمن سے عدل کرے گا اور سچائی اور انصاف سے درگذر نہیں کرے گا۔ وہی ہے جو سچی محبت بھی کرتا ہے۔ مگر آپ کے خدا کو یہ تعلیم یا د نہ رہی ۔ کہ ظالم دشمنوں کے ساتھ عدل کرنے پر ایسا زور دیتا جو قرآن نے دیا اور دشمن کے ساتھ سچا معاملہ کرنے کے لئے اور سچائی کو لازم پکڑنے کے لئے وہ تاکید کرتا جو قرآن نے تاکید کی۔ اور تقویٰ کی باریک راہیں سکھاتا ۔ مگر افسوس کہ جو بات سکھلائی دھوکے کی سکھلائی اور پرہیز گاری کی سیدھی راہ پر قائم نہ کر سکا۔ یہ آپ کے فرضی یسوع کی نسبت ہم کہتے ہیں ۔ جس کے چند پریشان ورق آپ کے ہاتھ میں ہیں اور جو خدائی کا دعوی کرتا کرتا آخر مصلوب ہو گیا اور ساری رات رو رو کر دعا کی کہ کسی طرح بچ جاؤں مگر بچ نہ سکا۔ ہمارے سید و مولی نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آپ دنیا سے جانے کے لئے دعا کی الْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الاعلی مگر آپ کے خدا صاحب نے دنیا کی چند روزہ زندگی سے ایسا پیار کیا کہ ساری رات زندہ رہنے کے لئے دعائیں کرتا رہا بلکہ سولی پر بھی رضا اور تسلیم کا کلمہ منہ سے نہ نکلا ۔