مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 184
مکتوبات احمد ۱۸۴ جلد اول پادری صاحب ! آپ کا یہ خیال کہ نو برس کی لڑکی سے جماع کرنا زنا کے حکم میں ہے ، سراسر غلط ہے۔ آپ کی ایمانداری یہ تھی کہ آپ انجیل سے اس کو ثابت کرتے ۔ انجیل نے آپ کو دھکے دیئے اور وہاں ہاتھ نہ پڑا تو گورنمنٹ کے پیروں میں آ پڑے یا درکھیں کہ یہ گالیاں محض شیطانی تعصب سے ہیں ۔ جناب مقدس نبوی کی نسبت فسق و فجور کی تہمت لگانا ، یہ افترا شیطانوں کا کام ہے ۔ ان دو مقدس نبیوں پر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام پر بعض بدذات اور خبیث لوگوں نے سخت افترا کئے ہیں ۔ چنانچہ ان پلیدوں نے لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمُ پہلے نبی کو زانی قرار دیا جیسا کہ آپ نے اور دوسرے کو ولد زنا کہا جیسا کہ پلید طبع یہودیوں نے ۔ آپ کو چاہیے کہ ایسے اعتراضوں سے پر ہیز کریں۔ اور یہ اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سودہ کو پیرانہ سالی کے سبب سے طلاق دینے کیلئے مستعد ہو گئے تھے، سرا سر غلط اور خلاف واقعہ ہے اور جن لوگوں نے ایسی روائتیں کی ہیں وہ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکتے کہ کسی شخص کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ارادہ ظاہر کیا ۔ پس اصل حقیقت جیسا کہ کتب معتبرہ احادیث میں مذکور ہے یہ ہے کہ خود سودہ نے ہی اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے دل میں یہ خوف کیا کہ اب میری حالت قابلِ رغبت نہیں رہی ، ایسا نہ ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باعث طبعی کراہت کے جو نشاء بشریت کو لازم ہے مجھ کو طلاق دے دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی امر کراہت کا بھی اس نے اپنے دل میں سمجھ لیا ہو اور اس سے طلاق کا اندیشہ دل میں جم گیا ہو کیونکہ عورتوں کے مزاج میں ایسے معاملات میں وہم اور وسوسہ بہت ہوا کرتا ہے ۔ اس لئے اس نے خود بخود ہی عرض کر دیا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں چاہتی کہ آپ کی ازواج میں میرا حشر ہو چنانچہ نیل الاوطار کے صفحہ ۱۴۰ میں یہ حدیث ہے ۔ ولقد قالت سودة بنت زمعة حين أسنّت وخافت أن يفارقها رسول الله الله : يارسول الله وهبت يومى لعائشة فقبل ذلك منها ورواه أيضاً ابن سعد و سعيد بن منصور والترمذى وعبدالرزاق قال الحافظ في الفتح فتواردت هذه الروايات على انها خشیت الطلاق فوهبت ۔ ☆ نيل الاوطار شرح منتقى الاخبار۔ جلد ۶ صفحه ۲۴۶