مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 166

مکتوبات احمد ۱۶۶ جلد اول مکتوب نمبر ۴ نقل خط جو مرزاغلام احمد صاحب کی طرف سے مسیحیان جنڈیالہ کی طرف ۱۳ را پریل ۱۸۹۳ء کو رجسٹری کر کے بھیجا گیا! بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بخدمت مسیحیان جنڈیالہ ! بعد ما ؤ جب ۔ آج میں نے آپ صاحبوں کی وہ تحریر جو آپ نے میاں محمد بخش صاحب کو بھیجی تھی ، اول سے آخر تک پڑھی ۔ جو کچھ آپ صاحبوں نے سوچا ہے مجھے اتفاق رائے ہے بلکہ در حقیقت میں اس مضمون کے پڑھنے سے ایسا خوش ہوا کہ میں اس مختصر خط میں اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا ۔ یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ یہ روز کے جھگڑے اچھے نہیں اور ان سے دن بدن عداوتیں بڑھتی ہیں اور فریقین کی عافیت اور آسودگی میں خلل پڑتا ہے اور یہ بات تو ایک معمولی سی ہے۔ اس سے بڑھ کر نہایت ضروری اور قابل ذکر یہ بات ہے کہ جس حالت میں دونوں فریق مرنے والے اور دنیا کو چھوڑنے والے ہیں تو پھر اگر با قاعدہ بحث کر کے اظہار حق نہ کریں تو اپنے نفسوں اور دوسروں پر ظلم کرتے ہیں ۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ جنڈیالہ کے مسلمانوں کا ہم سے کچھ زیادہ حق نہیں بلکہ جس حالت میں خداوند کریم اور رحیم نے اس عاجز کو انہیں کاموں کیلئے بھیجا ہے تو ایک سخت گناہ ہو گا کہ ایسے موقع پر خاموش رہوں ۔ اس لئے میں آپ لوگوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ اس کام کے لئے میں ہی حاضر ہوں ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ فریقین کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کو اپنا اپنا مذہب بہت سے نشانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ سے ملا ہے اور یہ بھی فریقین کو اقرار ہے کہ زندہ مذہب وہی ہو سکتا ہے کہ جن دلائل پر ان کی صحت کی بنیاد ہے وہ دلائل بطور قصہ کے نہ ہوں بلکہ دلائل ہی کے رنگ میں اب بھی موجود اور نمایاں ہوں ۔ مثلاً اگر کسی کتاب میں بیان کیا گیا ہو کہ فلاں نبی نے بطور معجزہ ایسے ایسے بیماروں کو اچھا کیا تھا تو یہ اور اس قسم کے اور امور اس زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک قطعی اور یقینی دلیل نہیں ٹھہر سکتی بلکہ ایک خبر ہے جو منکر کی نظر میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال