مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 163
مکتوبات احمد ۱۶۳ جلد اول ہے تو اب برائے خدا اس کے قبول کرنے میں توقف نہ کریں ۔ اب بہر حال وہ وقت آ گیا ہے کہ خدا تعالیٰ سچے مذہب کے انوار اور برکات ظاہر کرے اور دنیا کو ایک ہی مذہب پر کر دیوے۔ سواگر آپ دل کو قومی کر کے سب سے پہلے اس راہ میں قدم ماریں اور پھر اپنے عہد کو بھی صدق اور جوانمردی کے ساتھ پورا کریں تو خدا تعالیٰ کے نزدیک صادق ٹھہریں گے اور آپ کی راستبازی کا یہ ہمیشہ کیلئے ایک نشان رہے گا ۔ اور اگر آپ یہ فرماویں کہ ہم تو یہ سب باتیں کر گزریں گے اور کسی نشان کے دیکھنے کے بعد دین اسلام قبول کر لیں گے یا دوسری شرائط متذکرہ بالا بجالائیں گے اور یہ عہد پہلے ہی سے تین اخباروں میں چھپوا بھی دیں گے۔ لیکن اگر تم ہی جھوٹے نکلے اور کوئی نشان دکھا نہ سکے تو تمہیں کیا سزا ہو گی ؟ تو میں اس کے جواب میں حسب منشاء توریت سزائے موت اپنے لئے قبول کرتا ہوں اور اگر یہ خلاف قانون ہو تو گل جائیداد اپنی آپ کو دوں گا ۔ جس طرح چاہیں پہلے مجھ سے تسلی کر لیں ۔ قولہ: لیکن یہ جناب کو یادر ہے کہ معجزہ ہم اسی کو جانیں گے جو ساتھ تحدی مدعی معجزہ کے بہ ظہور قولہ:لیکن آوے اور کہ مصدق کسی امر ممکن کا ہو ۔ اقول: اس سے مجھے اتفاق ہے ۔ اور تحدی اسی بات کا نام ہے کہ مثلاً ایک شخص منجانب اللہ ہونے کا دعوی کر کے اپنے دعوی کی تصدیق کیلئے کوئی ایسی پیشگوئی کرے جو انسان کی طاقت سے بالا تر ہو اور پیشگوئی سچی نکلے تو وہ حسب منشاء توریت استثنا ۱۸ - ۱۸ سچا ٹھہرے گا ۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اور پیشگوئی چھی لگے تو وہ حسب منشاء ایسا نشان کسی امر ممکن کا مصدق ہونا چاہئے ورنہ یہ تو جائز نہیں کہ کوئی انسان مثلاً یہ کہے کہ میں خدا ہوں اور اپنی خدائی کے ثبوت میں کوئی پیشگوئی کرے اور وہ پیشگوئی پوری ہو جائے تو پھر وہ خدا مانا جاوے۔ لیکن میں اس جگہ آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب اس عاجز نے ملہم اور مامور من اللہ ہونے کا دعوی کیا تھا تو ۱۸۸۸ء میں مرزا امام الدین نے جس کو آپ خوب جانتے ہیں ۔ چشمہ نور امرتسر میں میرے مقابل پر اشتہار چھپوا کر مجھ سے نشان طلب کیا تھا۔ تب بطور نشان نمائی ایک پیشگوئی کی گئی تھی جو نو را فشاں ۱۰ رمئی ۱۸۸۸ء میں شائع ہو گئی تھی جس کا مفصل ذکر اس اخبار میں اور نیز میری کتاب آئینہ کمالات کے صفحہ ۲۷۹، ۲۸۰ میں موجود ہے اور وہ پیشگوئی ۳۰ ستمبر ۱۸۹۲ء کو اپنی