مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 144

مکتوبات احمد ۱۴۴ جلد اول الہامی نہیں ہیں بلکہ تاریخی طور پر انجیلوں میں داخل ہیں اور الہام کے سلسلہ سے بکلی خارج ہیں اور الہامی عبارات سے بکلّی ان کا تناقض پایا جاتا ہے پس جب الہامی اور غیر الہامی عبارات میں تناقض ہو تو اس کے دور کرنے کیلئے بجز اس کے اور کیا تدبیر ہے کہ جو عبارتیں الہامی نہیں ہیں وہ نا قابلِ اعتبار سمجھی جائیں اور صرف انجیل نویسوں کے مبالغات یقین نہ کئے جائیں؟ چنانچہ جا بجا ان کا مبالغہ کرنا ظاہر بھی ہے جیسا کہ یوحنا کی انجیل کی آخری آیت جس پر وہ مقدس انجیل ختم کی گئی ہے یہ ہے پر اور بھی بہت سے کام ہیں جو یسوع نے کئے اور اگر وہ جُداجدا لکھے جاتے تو میں گمان کرتا ہوں کہ کتابیں جو لکھی جاتیں دنیا میں سما نہیں سکتیں ۔ دیکھو کس قدر مبالغہ ہے زمین و آسمان کے عجائبات تو دنیا میں سما گئے مگر مسیح کی تین یا اڑھائی برس کی سوانح دنیا میں سما نہیں سکتی ۔ ایسے مبالغہ کرنے والے لوگوں کی روایت پر کیونکر اعتبار کر لیا جاوے۔ وو ہندوؤں نے بھی اپنے اوتاروں کی نسبت ایسی ہی کتابیں تالیف کی تھیں اور اسی طرح خوب جوڑ جوڑ سے ملا کر جھوٹ کا پل باندھا تھا ۔ سو اس قوم پر بھی اس افترا کا نہایت قومی اثر پڑا اور اس سرے سے ملک کے اُس سرے تک رام رام اور کرشن کرشن دلوں میں رچ گیا۔ بات یہ ہے کہ مرتب کردہ کتابیں جن میں بہت سا افتراء بھرا ہوا ہو ان قبروں کی طرح ہوتے ہیں جو باہر سے خوب سفید کی جائیں اور چھپکائی جائیں پر اندر کچھ نہ ہو۔ اندر کا حال ان بے خبر لوگوں کو کیا معلوم ہو سکتا ہے جو صد ہا برسوں کے بعد پیدا ہوئے اور بنی بنائی کتابیں ایسی متبرک اور بے لوث ظاہر کر کے ان کو دی گئیں کہ گویا وہ اسی صورت اور وضع کے ساتھ آسمان سے اُتری ہیں ۔ سو وہ کیا جانتے ہیں کہ در اصل یہ مجموعہ کس طرح تیار کیا گیا ہے؟ دنیا میں ایسی تیز نگاہیں جو پردوں کو چیرتی ہوئی اندر گھس جائیں اور اصل حقیقت پر اطلاع پالیں اور چور کو پکڑ لیں ، بہت کم ہیں اور افتراء کے جادو سے متاثر ہونے والی روحیں اس قدر ہیں جن کا اندازہ کرنا مشکل ہے اسی وجہ سے ایک عالم تباہ ہو گیا اور ہوتا جاتا ہے۔ نادانوں نے ثبوت یا عدم ثبوت کے ضروری مسئلہ پر کچھ بھی غور نہیں کی اور انسانی منصوبوں اور بندشوں کا جو ایک مستمرہ طریقہ اور نیچر لی امر ہے جو نوع انسان میں قدیم سے چلا آتا ہے اس سے چوکس رہنا نہیں چاہا اور یونہی شیطانی دام کو اپنے پر لے لیا ۔ مکاروں نے اس شریر کیمیا گر کی طرح جو ایک سادہ لوح سے ہزار روپیہ نقد لے کر دس بیس لاکھ کا سونا بنا دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ سچا اور پاک بنا ہے۔سچا