مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 137

مکتوبات احمد ۱۳۷ جلد اول جا کر زمین پر گر پڑا ( یعنی سجدہ کیا ) اور دعا مانگی کہ اگر ہو سکے تو یہ گھڑی مجھ سے مل جائے اور کہا کہ اے ابا ! اے باپ ! سب کچھ تجھ سے ہو سکتا ہے۔ اس پیالہ کو مجھ سے ٹال دے۔ یعنی تو قادر مطلق ہے اور میں ضعیف اور عاجز بندہ ہوں ۔ تیرے ٹالنے سے یہ بلائل سکتی ہے اور آخر ایلِی ايْلِی لِمَا سَبَقْتَنِي کہہ کر جان دی ۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے خدا! اے میرے خدا!! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا“ اب دیکھئے کہ اگر چہ دعا تو قبول نہ ہوئی کیونکہ تقدیر مبرم تھی ۔ ایک مسکین مخلوق کی خالق کے قطعی ارادہ کے آگے کیا پیش جاتی تھی ۔ مگر حضرت مسیح نے اپنی عاجزی اور بندگی کے اقرار کو نہایت تک پہنچا دیا۔ اس امید سے کہ شاید قبول ہو جائے ۔ اگر انہیں پہلے سے علم ہوتا کہ دعا رڈ کی جائے گی ۔ ہرگز قبول نہیں ہوگی تو وہ ساری رات برابر فجر تک اپنے بچاؤ کے لئے کیوں دعا کرتے رہتے اور کیوں اپنے تئیں اور اپنے حواریوں کو بھی تقید سے اس لا حاصل مشقت میں ڈالتے ۔ سو بقول معترض صاحب ان کے دل میں یہی تھا کہ انجام خدا کو معلوم ہے ۔ مجھے معلوم نہیں ۔ پھر ایسا ہی حضرت مسیح کی بعض پیشگوئیوں کا صحیح نہ نکلنا دراصل اسی وجہ سے تھا کہ باعث عدم علم بر اسرار مخفیہ اجتہادی طور پر تشریح کرنے میں اُن سے غلطی ہو جاتی تھی ۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ جب نئی خلقت میں ابن آدم اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا تم بھی (اے میرے بارہ حواریو ) بارہ تختوں پر بیٹھو گے ۔ دیکھو باب ۲۰ ۔ آیت ۲۸۔ متی“۔ لیکن اسی انجیل سے ظاہر ہے کہ یہودا اسکر یوطی اس تخت سے بے نصیب رہ گیا۔ اس کے کانوں نے تخت نشینی کی خبر سن لی مگر تخت پر بیٹھنا اُسے نصیب نہ ہوا ۔ اب راستی اور سچائی سے یہ سوال پیدا ہوتا خبرسن لی ہے کہ اگر حضرت مسیح کو اس شخص کے مرتد اور بد عاقبت ہونے کا پہلے سے علم ہوتا تو کیوں اس کو تخت نشینی کی جھوٹی خبر سناتے ۔ ایسا ہی ایک مرتبہ آپ ایک انجیر کا درخت دور سے دیکھ کر انجیر کھانے کی نیت سے اس کی طرف گئے مگر جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر ایک بھی انجیر نہیں تو آپ بہت ناراض ہوئے اور غصہ کی حالت میں اس انجیر کو بد عادی جس کا کوئی بداثر انجیر پر ظاہر نہ ہوا ۔ اگر آپ کو کچھ غیب کا علم ہوتا تو بے ثمر درخت کی طرف اس کا پھل کھانے کے ارادہ سے کیوں جاتے؟ ایسا ہی ایک مرتبہ آپ کے دامن کو ایک عورت نے چھوا تھا تو آپ چاروں طرف پوچھنے لگے ل متی باب ۲۷ آیت ۴۶