مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 134
مکتوبات احمد المولد جلد اول پوری تکمیل سے کوئی اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھلا نہ سکے ( کاش حضرت مسیح نے اپنے ظاہری شغل سلب امراض کی طرف کم توجہ کی ہوتی اور وہی توجہ اپنے حواریوں کی باطنی کمزوریوں اور بیماریوں پر ڈالتے ، خاص کر یہودا اسکر یوطی پر ) اس جگہ صاحب موصوف یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے صحابہؓ کے مقابلہ پر حواریوں کی روحانی تربیت یابی اور دینی استقامت کا موازنہ کیا جائے تو ہمیں افسوس کے ساتھ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح کے حواری روحانی طور پر تربیت پذیر ہونے میں نہایت ہی کچے اور پیچھے رہے ہوئے تھے اور ان کے دماغی اور دلی قومی کو حضرت مسیح کی صحبت نے کوئی ایسی توسیع نہیں بخشی تھی جو صحابہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مقابل پر کچھ قابل تعریف ہو سکے ۔ بلکہ حواریوں کے قدم قدم میں بزدلی ، سُست اعتقادی ، تنگدلی و دنیا طلبی ، بیوفائی ثابت ہوتی تھی ۔ مگر صحابہ نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے وہ صدق وفا ظہور میں آیا جس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے پیروؤں میں ملنا مشکل ہے۔ سو یہ اس روحانی تربیت کا جو کامل طور پر ہوئی تھی اثر تھا جس نے اُن کو بکلی مبدل کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیا تھا۔ اسی طرح سے بہت سے دانشمند انگریزوں نے حال میں ایسی کتابیں تالیف کی ہیں کہ جن میں اُنہوں نے اقرار کر لیا ہے کہ اگر ہم نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی حالت رجوع الی اللہ و توکل ، استقامت ذاتی و تعلیم کامل و مطہر و القائے تا ثیر و اصلاح خلق کثیر از مفسدین و تائیدات ظاهری و باطنی قادر مطلق کو ان معجزات سے الگ کر کے بھی دیکھیں جو بعد منقول ان کی نسبت بیان کی جاتی ہیں ۔ تب بھی ہمارا انصاف اس اقرار کے لئے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ یہ تمام امور جو اُن سے ظہور میں آئے ۔ یہ بھی بلا شبہ فوق العادت اور بشری طاقتوں سے بالاتر ہیں اور نبوت صحیحہ صادقہ کی شناخت کرنے کیلئے قوی اور کافی نشان ہیں ۔ کوئی انسان جب تک اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نہ ہو کبھی ان سب باتوں میں کامل اور کامیاب نہیں ہو سکتا اور نہ ایسی غیبی تائیدیں اُس کے شامل ہوتی ہیں ۔