مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 131

مکتوبات احمد الها جلد اول بات تیرہ سو برس سے زیادہ گزر رہا ہے باوجود یکہ قرآن شریف کی منادی دنیا کے ہر ایک نواح میں ہو رہی ہے اور بڑے زور سے هَلْ مِنْ مَعَارِضِ کا نقارہ بجایا جاتا ہے مگر کبھی کسی طرف سے آواز نہیں آئی۔ پس اس سے اس بات کا صریح ثبوت ملتا ہے کہ تمام انسانی قوتیں قرآن شریف کے مقابلہ و معارضہ سے عاجز ہیں بلکہ اگر قرآن شریف کی صدہا خوبیوں میں سے صرف ایک خوبی کو پیش کر کے اس کی نظیر مانگی جائے تو انسان ضعیف البنیان سے یہ بھی نا ممکن ہے کہ اس کے ایک جزو کی نظیر پیش کر سکے ۔ مثلاً قرآن شریف کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی خوبی ہے کہ وہ تمام معارف دینیہ پر مشتمل ہے اور کوئی دینی سچائی جو حق اور حکمت سے تعلق رکھتی ہے، ایسی نہیں جو قرآن شریف میں پائی نہ جاتی ہو ۔ مگر ایسا شخص کون ہے کہ کوئی دوسری کتاب ایسی دکھلائے جس میں یہ صفت موجود ہو۔ اور اگر کسی کو اس بات میں شک ہو کہ قرآن شریف جامع تمام حقائق دینیہ ہے تو ایسا مشکک خواہ عیسائی ہو، خواہ آریہ اور خواہ برہمو ہو، خواہ دہر یہ اپنی طرز اور طور پر امتحان کر کے اپنی تسلی کر اسکتا ہے اور ہم تسلی کر دینے کے ذمہ دار ہیں ۔ بشرطیکہ کوئی طالب حق ہماری طرف رجوع کرے۔ بائیبل میں جس قدر پاک صداقتیں ہیں یا حکماء کی کتابوں میں جس قد رحق اور حکمت کی باتیں ہیں جن پر ہماری نظر پڑی ہے یا اقد ہندوؤں کے وید وغیرہ میں جو اتفاقاً بعض سچائیاں درج ہو گئی ہیں یا باقی رہ گئی ہیں جن کو ہم نے دیکھا ہے یا صوفیوں کی صد ہا کتابوں میں جو حکمت و معرفت کے نکتے ہیں ، جن پر ہمیں اطلاع ہوئی ہے اُن سب کو ہم قرآن شریف میں پاتے ہیں اور اس کامل استقراء سے جو تین برس کے عرصہ میں نہایت عمیق اور محیط نظر کے ذریعہ سے ہم کو حاصل ہے، نہایت قطع اور یقین سے ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ کوئی روحانی صداقت جو تکمیل نفس اور دماغی اور دلی قومی کی تربیت کے لئے اثر رکھتی ہے ایسی نہیں جو قرآن شریف میں درج نہ ہو اور یہ صرف ہمارا ہی تجربہ نہیں بلکہ یہی قرآن شریف کا دعوی بھی ہے جس کی آزمائش نہ فقط میں نے کی بلکہ ہزار ہا علماء ابتداء سے کرتے آئے اور اس کی سچائی کی گواہی دیتے آئے ہیں ۔ پھر چوتھا معجزہ قرآن شریف کا اس کی روحانی تاثیرات ہیں جو ہمیشہ اس میں محفوظ چلی آتی ہیں یعنی یہ کہ اس کی پیروی کرنے والے قبولیت الہی کے مراتب کو پہنچتے ہیں اور مکالمات الہیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں محبت اور رحمت کی راہ سے