مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 126
مکتوبات احمد ۱۲۶ جلد اول بتلا رہا ہے کہ اس وقت تخویفی نشان جن کی یہ لوگ درخواست کرتے ہیں صرف اس وجہ سے نہیں بھیجے گئے کہ پہلی آیتیں ان کی تکذیب کر چکی ہیں ۔ سو جونشان پہلے رڈ کئے گئے اب بار بار انہیں کو نازل کرنا کمزوری کی نشانی ہے اور غیر محدود قدرتوں والے کی شان سے بعید ۔ پس ان آیات میں یہ صاف اشارہ ہے کہ عذاب کے نشان ضرور نازل ہوں گے مگر اور رنگوں میں ۔ یہ کیا ضرورت ہے کہ وہی نشان حضرت موسی کے یا وہی نشان حضرت نوح اور قوم لوط اور عاد اور ثمود کے ظاہر کئے جائیں ۔ چنانچہ ان آیات کی تفصیل دوسری آیات میں زیادہ تر کی گئی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا حَتَّى إِذَا جَاءَ وَكَ يُجَادِلُوْنَكَ وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةً قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللهِ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۔ قُلْ إِنِّي عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَّبِّي وَكَذَّبْتُمْ بِهِ مَا عِنْدِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَصِلِينَ ، قَدْ جَاءَكُمْ بَصَابِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٌ ، وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ آيَتِهِ فَتَعْرِفُوْنَهَا قُل لَّكُمْ مِيعَادُ يَوْمِ لَا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ وَيَسْتَنْبُونَكَ أَحَقُّ هُوَ قُلْ إِنْ وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقُّ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ * سَنُرِيهِمْ أَيْتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سَأُورِيكُمُ ايْتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ " یعنی یہ لوگ تمام نشانوں کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے ۔ پھر جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے لڑتے ہیں اور جب کوئی نشان پاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کبھی نہیں مانیں گے جب تک ہمیں خود ہی وہ باتیں حاصل نہ ہوں جو رسولوں کو ملتی ہیں ۔ کہہ میں کامل ثبوت لے کر اپنے رب کی طرف سے آیا ہوں اور تم اس ثبوت کو دیکھتے ہو اور پھر تکذیب کر رہے ہو۔ جس چیز کو تم جلدی سے مانگتے ہو ( یعنی عذاب ) وہ تو میرے اختیار میں نہیں ۔ حکم اخیر صادر کرنا تو خدا ہی کا منصب ہے، وہی حق کو کھول الانعام : ۲۲۶ الانعام: ۱۲۵ ۳ الانعام: ۴۵۸ الانعام: ۱۰۵ ۵ العنكبوت: ۲۵۴ الانعام: ۶۶ النمل: ۹۴ ۸ سبا : ۳۱ ۹ يونس : ۵۴ واحم السجدة: ۵۴ الى الانبياء: ۳۸