مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 123
مکتوبات احمد ۱۲۳ جلد اول دن بدن بڑھتا جاتا ہے۔ سو حقیقت میں عظیم الشان اور قوی الاثر اور مبارک اور موصل الى المقصود تبشیر کے نشان ہی ہوتے ہیں جو سالک کو معرفتِ کاملہ اور محبت ذاتیہ کے اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جو اولیاء اللہ کے لئے منتہی المقامات ہے۔ اور قرآن شریف میں تبشیر کے نشانوں کا بہت کچھ ذکر ہے یہاں تک کہ اس نے اُن نشانوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایک دائمی وعدہ دے دیا ہے کہ قرآن شریف کے سچے متبع ہمیشہ ان نشانوں کو پاتے رہیں گے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ، یعنی ایماندار لوگ دنیوی زندگی اور آخرت میں بھی تبشیر کے نشان پاتے رہیں گے۔ جن کے ذریعے سے وہ دنیا اور آخرت میں معرفت اور محبت کے میدانوں میں نا پیدا کنار ترقیاں کرتے جائیں گے ۔ یہ خدا کی باتیں ہیں جو کبھی نہیں ملیں گی اور تبشیر کے نشانوں کو پالینا یہی فوز عظیم ہے ( یعنی یہی ایک امر ہے جو محبت اور معرفت کے منتہی مقام تک پہنچا دیتا ہے ) ۔ اب جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں ، جو معترض نے بصورت اعتراض پیش کی ہے، صرف تخویف کے نشانوں کا ذکر کیا ہے ۔ جیسا کہ آیت وَ مَا نُرْسِلُ بِالْايَتِ إِلَّا تَخُويُفا سے ظاہر ہو رہا ہے۔ کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کے کل نشانوں کو قہری نشانوں میں ہی محصور سمجھ کر اس آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ ہم تمام نشانوں کو محض تخویف ہی کی غرض سے بھیجا کرتے ہیں اور کوئی دوسری غرض نہیں ہوتی ۔ تو یہ معنی بہ بداہت باطل ہیں ۔ جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا ہے کہ نشان دوغرضوں سے بھیجے جاتے ہیں ۔ یا تخویف کی غرض سے یا تبشیر کی غرض سے ۔ انہیں دو قسموں کو قرآن شریف اور بائیبل بھی جا بجا ظاہر کر رہی ہے۔ پس جب کہ نشان دو قسم کے ہوئے تو آیت ممدوحہ بالا میں جو لفظ آیات ہے (جس کے معنی وہ نشانات ) بہر حال اسی تاویل پر بصحت منطبق ہوگا کہ نشانوں سے قہری نشان مراد ہیں کیونکہ اگر یہ معنی نہ لئے جائیں تو پھر اس سے یہ لازم آتا ہے کہ تمام نشانات جو تحت قدرت الہی داخل ہیں ۔ تخویف کی قسم میں ہی محصور ہیں ۔ حالانکہ فقط تخویف کی قسم میں ہی سارے نشانوں کا حصر سمجھنا سراسر خلاف واقعہ ہے کہ جو نہ کتاب اللہ کی رو سے اور نہ عقل کی رو سے اور نہ کسی پاک دل کے کانشنس کی رو رو سے درست ہو روسی ہوسکتا ہے۔ ا یونس: ۶۵ بنی اسراءیل : ۶۰