مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 118
مکتوبات احمد ۱۱۸ جلد اول تم کیوں اس رحمت کے نشان کو چھوڑ کر جو ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہے عذاب اور موت کا نشان ما نگتے ہو؟ پھر بعد اس کے فرمایا کہ یہ قوم تو جلدی سے عذاب ہی مانگتی ہے۔ رحمت کے نشانوں سے فائدہ اُٹھانا نہیں چاہتی ۔ اُن کو کہہ دے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ عذاب کی نشانیاں وابستہ باوقات ہوتی ہیں تو یہ عذابی نشانیاں بھی کب کی نازل ہو گئی ہوتیں ۔ اور عذاب ضرور آئے گا اور ایسے وقت میں آئے گا کہ ان کو خبر بھی نہیں ہوگی ۔ اب انصاف سے دیکھو! کہ اس آیت میں کہاں معجزات کا انکار پایا جاتا ہے۔ یہ آیتیں تو بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ کفار نے ہلاکت اور عذاب کا نشان مانگا تھا۔ سواؤل انہیں کہا گیا کہ دیکھو تم میں زندگی بخش نشان موجود ہے یعنی قرآن جو تم پر وارد ہو کر تمہیں ہلاک کرنا نہیں چاہتا بلکہ ہمیشہ کی حیات بخشتا ہے مگر جب عذاب کا نشان تم پر وارد ہوا تو وہ تمہیں ہلاک کرے گا ۔ پس کیوں تم ناحق اپنا مرنا ہی چاہتے ہو اور اگر تم عذاب ہی مانگتے ہو تو یا د رکھو کہ وہ بھی جلد آئے گا ۔ پس اللہ جل شانہ نے ان آیات میں عذاب کے نشان کا وعدہ دیا ہے اور قرآن شریف میں جو رحمت کے نشان ہیں اور دلوں پر وارد ہو کر اپنا خارق عادت اثر ان پر ظاہر کرتے ہیں ان کی طرف توجہ دلائی ۔ پر معترض کا یہ گمان کہ اس آیت میں لا نافیہ جنس معجزات کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔ جس سے کل معجزات کی نفی لازم آتی ہے۔ محض صرف و نحو سے ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔ یا د رکھنا چاہئے کہ نفی کا اثر اُسی حد تک محدود ہوتا ہے جو متکلم کے ارادہ میں متعین ہوتی ہے ۔ خواہ وہ ارادہ تصریحاً بیان کیا گیا ہو یا اشارہ ۔ مثلاً کوئی کہے کہ اب سردی کا نام و نشان باقی نہیں رہا ، تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنے بلدہ کی حالت موجودہ کے موافق کہا ہے اور گو اس نے بظاہر اپنے شہر کا نام بھی نہیں لیا مگر اس کے کلام سے یہ سمجھنا کہ اس کا یہ دعویٰ ہے کہ کل کو ہستانی ملکوں سے بھی سردی جاتی رہی اور سب جگہ سخت اور تیز دھوپ پڑنے لگی اور اس کی دلیل یہ پیش کرنا کہ جس لا کو اس نے استعمال کیا ہے وہ نفی جنس کا لا ہے۔ جس کا تمام جہان پر اثر پڑنا چاہئے ، درست نہیں ۔ مکہ کے مغلوب بت پرست جنہوں نے آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آنجناب کے معجزات کو معجزہ کر کے مان لیا اور جو کفر کے زمانہ میں بھی صرف خشک منکر نہیں تھے بلکہ روم اور ایران میں بھی جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو متعجبانہ خیال سے ساحر مشہور کرتے تھے اور گوبے جا پیرایوں میں ہی سہی ، مگر نشانوں کا اقرار کر لیا