مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 116
مکتوبات احمد ۱۱۶ جلد اول دوسرے سوال کا جواب : پوشیدہ نہ رہے کہ ان دونوں آیتوں سے معترض کا مدعا جو استدلال برنفی معجزات ہے، ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ برخلاف اس کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرورا ایسے معجزات ظہور پذیر ہوتے رہے ہیں کہ جو ایک صادق و کامل نبی سے ہونے چاہئیں ۔ چنانچہ تصریح اس کی نیچے کے بیانات سے بخوبی ہو جائے گی ۔ پہلی آیت جس کا ترجمہ معترض نے اپنے دعوی کی تائید کیلئے عبارات متعلقہ سے کاٹ کر پیش کر دیا ہے مع اس ساتھ کی دوسری آیتوں کے جن سے مطلب کھلتا ہے، یہ ہے۔ وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ أَيْتُ مِنْ رَّبِّهِ قُلْ إِنَّمَا الْآيَتُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرُ مُّبِينٌ۔ أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَجَاءَ هُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ یعنی کہتے ہیں کیوں نہ اُتریں اس پر نشانیاں کہ وہ نشانیاں ( جو تم مانگتے ہو یعنی عذاب کی نشانیاں ) وہ تو خدائے تعالیٰ کے پاس اور خاص اس کے اختیار میں ہیں اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں ۔ یعنی میرا کام فقط یہ ہے کہ عذاب کے دن سے ڈراؤں نہ یہ کہ اپنی طرف سے عذاب نازل کروں اور پھر فرمایا کہ ان لوگوں کیلئے ( جو اپنے پر کوئی عذاب کی نشانی وارد کرانی چاہتے ہیں ) یہ رحمت کی نشانی کافی نہیں جو ہم نے تجھ پر (اے رسول اُمی ) وہ کتاب ( جو جامع کمالات ہے ) نازل کی جو اُن پر پڑھی جاتی ہے یعنی قرآن شریف جو ایک رحمت کا نشان ہے۔ جس سے درحقیقت وہی مطلب نکلتا ہے جو کفار عذاب کے نشانوں سے پورا کرنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ کفار مکہ اس غرض سے عذاب کا نشان مانگتے تھے کہ تا وہ ان پر وارد ہو کر انہیں حق الیقین تک پہنچاوے۔ صرف دیکھنے کی چیز نہ رہے کیونکہ مجرد رویت کے نشانوں میں ان کو دھو کے کا احتمال تھا اور چشم بندی وغیرہ کا خیال ۔سو اس وہم اور اضطراب کے دور کرنے کے لئے فرمایا کہ ایسا ہی نشان چاہتے ہو جو تمہارے وجودوں پر وارد ہو جائے تو پھر عذاب کے نشان کی کیا حاجت ہے؟ کیا اس مدعا کے حاصل کرنے کے لئے رحمت کا نشان کافی نہیں؟ یعنی قرآن شریف جو تمہاری آنکھوں کو اپنی پُر نور اور تیز شعاعوں سے خیرہ ا العنكبوت: ۵۲،۵۱ العنكبوت : ۵۴