مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 106

مکتوبات احمد ۱۰۶ جلد اول ایک عزیز اور پیارے مہمان کی حتی الوسع دلجوئی و خدمت و تواضع کرنی چاہئے ، اسی طرح ان کی بھی کی جائے گی ۔ اپنی طاقت اور استطاعت کے موافق برتاؤ اور معاملہ ہو گا اور اپنے نفس سے زیادہ تر اکل و شرب میں ان کی رعایت رکھی جائے گی ۔ ہاں اگر کوئی اس قسم کی تکلیف ہو جس کو اس گاؤں میں ہم لوگ خود اُٹھاتے ہیں اور اس کا دفع اور ازالہ ہماری طاقت اور استطاعت سے باہر ہے۔ اس میں ہمارے مہمان ہماری حالت کے شریک رہیں گے اور اس بات کو آپ سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ جس حالت میں ہم نے دو سو روپیہ ماہواری دینا قبول کیا اور اس کیلئے ہر طرح تسلی بھی کر دی تو ہم نے اپنے فرض کو ادا کر دیا۔ کہ جو کسی کا پورا پورا حرجہ دینے کے لئے ہمارے سر پر تھا۔ رہا تجویز مکان و دیگر لوازم مہمانداری سو یہ زوائد ہیں جن کو ہم نے حسنِ اخلاق کے طور پر اپنے ذمہ آپ لے لیا ہے۔ ورنہ ہر ایک با انصاف آدمی جانتا ہے کہ جس شخص کو پورا و پورا پورا حرجہ اس کی حیثیت کے موافق بلکہ اس سے بڑھ کر دیا جائے تو پھر اور کوئی مطالبہ اس کا بے جا ہے۔ اس کو تو خود مناسب ہے کہ اگر زیادہ تر آرام پسند اور آسائش دوست ہے تو اپنی آسائش کے لئے آپ بند و بست کر لے ۔ جیسا اس حالت میں بند و بست کرتا کہ جب وہ دوسو روپیہ نقد کسی اور جگہ سے بطور نوکری پاتا۔ غرض جس قدر قدر ر علاوہ علاوہ ادائے حرجہ کے ہم سے کسی کی خدمت خدمت : ہو جاوے ۔ اس میں تو ہمارا ممنون ہونا چاہئے کہ ہم نے علاوہ اصل شرط کے بطور مہمانوں کے اس کو رکھا ۔ نہ کہ الٹی نکتہ چینی کی جائے ۔ کیونکہ یہ تو تہذیب اور اخلاق اور انصاف سے بہت بعید ہے اور اس مقام میں مجھ کو ایک اور سے بہت بعید ہے اور اس سخت تعجب یہ ہے کہ اگر ایسی شرائط جو آپ نے پیش کیں کوئی اور شخص کسی فرقہ مخالف کا پیش کرتا تو کچھ بعید نہ تھا ۔ مگر آپ لوگ تو حضرت مسیح علیہ السلام کے خادم اور تابع کہلاتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا دم مارتے ہیں۔ سو یہ کیسی بھول کی بات ہے کہ آپ حضرت مسیح کی سیرت کو چھوڑے جاتے ہیں ۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح ایک مسکین اور درویش طبع آدمی تھے جنہوں نے اپنی تمام زندگی میں کوئی اپنا گھر نہ بنایا اور کسی نوع کا اسباب عیش و عشرت اپنے لئے مہیا نہ کیا۔ تو پھر آپ فرماویں کہ آپ کو ان کی پیروی کرنا لازم ہے یا نہیں؟ جب تک آپ کی زندگی مسیح کی زندگی کا نمونہ نہ بنے تب تک آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح کے سچے پیرو ہیں ۔ سواب آپ غور کر لیں کہ ۔ یہ کس قدر ناز یبا بات ہے کہ جو آپ پہلے ہی اپنی عیش و عشرت کے لئے مجھ سے شرطیں کر رہے ررہے ہیں ۔