مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 104

مکتوبات احمد الد جلد اول جس کی پرانوں میں یہ کتھا لکھی ہے کہ مہاد یوجی پاہنسی کا روپ دھار کر راجہ بھیم کے سامنے آ کھڑے ہوئے ۔ بھیم نے چاہا کہ ان سے لڑے ۔ مہادیو جی بھاگ نکلے ۔ بھیم نے ان کا پیچھا کیا تب وہ زمین میں گھس گئے۔ بھیم نے یہ دیکھ کر بڑے زور سے ان کی پونچھ پکڑ لی اور کہا کہ اب میں نہ جانے دوں گا۔ سو پونچھ اور پچھلا دھڑ تو بھیم لے کے ہاتھ میں رہ گیا اور منہ نیپال کے پہاڑ میں جا نکلا ۔ اسی وجہ سے منہ کی پو جانیپال میں ہوتی ہے اور پونچھ اور پچھلے دھڑ کی کدار ناتھ میں ۔ اب دیکھئے کہ جو کچھ آپ نے عقیدہ بنا رکھا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کی روح حضرت مریم کے رحم میں گھس گئی اور گھنے کے بعد اُس نے ایک نیا روپ دھار لیا ۔ جس سے وہ کامل خدا بھی بنے رہے اور کامل انسان بھی ہو گئے ۔ کیا یہ قصہ بھیم اور مہادیو کے قصہ سے کچھ کم ہے۔ پھر آپ یہ بھی دعوی کرتے ہیں کہ ہم کو مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے سے نجات حاصل ہو گئی ہے ۔ مگر میں آپ لوگوں میں نجات کی کوئی علامت نہیں دیکھتا۔ اور اگر میں غلطی پر ہوں تو آپ مجھ کو بتلائیں کہ وہ کون سے انوار و برکات اور قبولیتِ الہی کے نشان آپ لوگوں میں پائے جاتے ہیں جن سے دوسرے لوگ محروم رہے ہوئے ہیں ۔ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ ایمانداروں اور بے ایمانوں اور ناجیوں اور غیر ناجیوں میں ضرور ما بہ الامتیاز ہونا چاہئے ۔ مگر پادری صاحب ! آپ ناراض نہ ہوں وہ علامات جو ایمانداروں میں ہوتی ہیں اور ہونی چاہئیں ۔ جن کو حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی دو تین جگہ انجیل میں لکھا ہے وہ آپ لوگوں میں مجھ کو نظر نہیں آتیں۔ بلکہ وہ نشان سچے مسلمانوں میں پائے میں مجھ سے میں وہ میں جاتے ہیں اور انہیں میں ہمیشہ پائے گئے ہیں اور انہیں نشانوں کے ظاہر کرنے کیلئے اس عاجز نے آپ صاحبوں کی خدمت میں رجسٹری کرا کر خط لکھے اور بیس ہزار اشتہار تقسیم کیا اور کوئی دقیقہ ابلاغ اور اتمام حجت کا باقی نہ رکھا ۔ تا خدا کرے کہ آپ لوگوں کو حق دیکھنے کیلئے شوق پیدا ہوا اور جو مقبول اور مردود میں فرق ہونا چاہئے وہ آپ بچشم خود دیکھ لیں اور اچھے درختوں کے اچھے پھل اور اچھے پھول بذات خود ملاحظہ کر لیں ۔ مگر افسوس کہ میری اس قدر سعی اور کوشش سے اب تک آپ لوگوں میں سے کوئی صاحب میدان میں نہیں آئے ۔ اب آپ نے یہ خط لکھا ہے مگر دیکھئے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے خط میں تین شرطیں لکھی ہیں ۔ پہلے آپ یہ لکھتے ہیں کہ چھ سو روپیہ یعنی لے راجہ یدھشتر کا چھوٹا بھائی ۔ شیو جی ( اُردو ہندی لغت )