مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 93

مکتوبات احمد ۹۳ جلد اول قول آں عزیز ۔ یہی وجہ ہے کہ پیروان وید نے کسی شخص کی پیروی نجات کیلئے محصور نہیں رکھی ۔ اقول ۔ جس شخص کے نزدیک وید کے مؤلف کی پیروی نجات کے لئے محصور نہیں وہ وید کا مکذب ہے ۔ آپ خود بتلائیں کہ اگر مثلاً ایک شخص وید کے اصولوں اور تعلیموں کو نہیں مانتا۔ نہ نینوگ کو مانتا ہے نہ اس بات پر راضی ہوتا ہے کہ اولاد کی خواہش کے لئے اپنی زندگی میں اپنی جورو کو ہمبستر کراوے اور یا وہ اس بات کو نہیں مانتا کہ پرمیشور نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور تمام روحیں اپنے اپنے وجود کی آپ ہی خدا ہیں اور یا وہ اگنی ، وایو، سورج وغیرہ کی پرستش کو نہیں مانتا۔ غرض وہ بہر طرح وید کورڈی کی طرح خیال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جس پر میشور کو وید نے پیش کیا ہے اُس کو پر میشور ہی نہیں جانتا تو کیا ایسے آدمی کیلئے نجات ہے یا نہیں؟ اگر نجات ہے تو آپ وید سے ایسی شرقی پیش کریں جو ان معنوں پر مشتمل ہو اور اگر نجات نہیں تو پھر آپ کا یہ قول صحیح نہ ہوا۔ کیونکہ ہم لوگ بھی تو صرف اس قدر کہتے ہیں کہ جو شخص قرآن شریف کی تعلیموں کو نہیں مانتا اُس کو ہرگز نجات نہیں اور اس جہان میں وہ اندھے کی طرح بسر کرے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ ۔ یعنی قرآن نے جو دین اسلام پیش کیا ہے ۔ جو شخص قرآنی تعلیم کو قبول نہیں کرے گا وہ مقبول خدا ہرگز نہ ہوگا اور مرنے کے بعد وہ زیاں کاروں میں ہوگا ۔ یہ کہنا کہ کسی شخص کی پیروی وید کی رُو سے درست نہیں ، یہ غلط ہے ۔ جب اُس کی کتاب کی پیروی کی تو خود اُس کی پیروی ہو گئی ۔ اگر ہند و صاحبان وید کی پیروی نہیں کرتے تو پھر وید کو پیش کیوں کرتے ہیں؟ ہوگئی۔ قول آں عزیز ہر ملت اور ہر مذہب میں صاحب کمال گزرے ہیں ۔ اقول ۔ زمانہ موجودہ میں بطور ثبوت کے کسی صاحبِ کمال کو پیش کرنا چاہئے ۔ کیا آپ کے نزدیک پنڈت لیکھر ام صاحب کمال تھا یا نہیں ؟ جس کو آج تک آریہ سماجی لوگ روتے ہیں ۔ میں نے آں محب کی دلجوئی کے لئے باوجود کم فرصتی کے یہ چند سطر میں لکھی ہیں ۔ امید کہ اس پر غور فرمائیں گے ۔ ۱۴ جون ۱۹۰۳ء ال عمران : ٨٦ خاکسار غلام احمد قادیان