مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 89
مکتوبات احمد ۸۹ جلد اول دنیا میں اکثر یہ واقعہ مشہور ہے کہ ہر ایک شخص ان خیالات پر بہت بھروسہ رکھتا ہے جن خیالات میں اُن نے پرورش پائی ہے یا جن کو سننے کا اُس کو بہت موقعہ ملا ہے ۔ چنانچہ ایک عیسائی بے تکلف کہہ دیتا ہے کہ عیسی ہی خدا ہے اور ایک ہندو اس بات کے بیان کرنے سے کچھ شرم نہیں کرتا کہ رام چندر اور کرشن در حقیقت خدا ہیں یا دریائے گنگ اپنے پرستاروں کو مرادیں دیتا ہے یا اُن کا ایک ایسا خدا ہے جس نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا ، صرف موجودہ اجسام یا اراوح کو جو کسی اتفاق سے خود بخود قدیم سے چلے آتے ہیں جوڑنا اس کا کام ہے۔ لیکن یہ تمام بھرو سے بے اصل ہیں ۔ ان کے ساتھ کوئی دلیل نہیں ۔ زندہ خدا کو خوش کرنا نجات کے طالب کا اصول ہونا چاہئے ۔ دنیا رسوم و عادات کی قید میں ہے۔ ہر ایک شخص جو کسی مذہب میں پیدا ہوتا ہے اکثر بہر حال اُسی کی حمایت کرتا ہے لیکن یہ طریق صحیح نہیں ہے بلکہ صحیح یہ بات ہے کہ جس مذہب کی رو سے زندہ خدا کا پتہ مل سکے اور بڑے بڑے نشانوں اور معجزات سے ثابت ہو کہ وہی خدا ہے، اس مذہب کو اختیار کرنا چاہئے ۔ کیونکہ اگر در حقیقت خدا موجود ہے اور اُس کی ذات کی قسم کہ در حقیقت وہ موجود ہے تو یہ اس کا کام ہے کہ وہ بندوں پر اپنے تئیں ظاہر کرے اور انسان جو محض اپنی انکلوں سے خیال کرتا ہے کہ اس جہان کا ایک خدا ہے اور وہ اٹکلیں سچی تسلی دینے کیلئے کافی نہیں اور جیسا کہ ایک محجوب ان روپوں پر بھروسہ کرتا ہے جو اُس کے صندوق میں بند ہیں اور اُس زمین پر جو اُس کے قبضہ میں ہے اور اُن باغات پر جو ہمیشہ صد ہا روپیہ کی آمدنی نکالتے ہیں اور اُن لائق بیٹوں پر جو بڑے بڑے عہدوں پر سرفراز ہیں اور ماہ بماہ اپنے باپ کو ہزار ہا روپیہ سے مدد کرتے ہیں وہ محجوب ایسا بھروسہ خدا تعالیٰ پر ہرگز نہیں کر سکتا ۔ اس کا کیا سبب ہے۔ یہی سبب ہے کہ اُس پر حقیقی ایمان نہیں ۔ ایسا ہی ایک غافل جیسا کہ طاعون سے ڈرتا ہے اور اُس گاؤں میں داخل نہیں ہوتا جو طاعون سے ہلاک ہو رہا ہے اور جیسا کہ وہ سانپ سے ڈرتا ہے اور اُس سوراخ میں ہاتھ نہیں ڈالتا جس میں سانپ ہو یا سانپ ہونے کا گمان ہوا اور جیسا کہ وہ شیر سے ڈرتا ہے اور اُس بَن میں داخل نہیں ہوتا جس میں شیر ہو ۔ ایسا ہی وہ خدا سے نہیں ڈرتا اور دلیری سے گناہ کرتا ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ اگر چہ وہ زبان سے کہتا ہے مگر دراصل خدا تعالیٰ سے غافل اور بہت دور ہے ۔ خدا تعالیٰ پر ایمان لانا کوئی امر سہل نہیں ہے۔ بلکہ جب تک خدا تعالیٰ کے کھلے کھلے نشان ظاہر نہ ہوں اُس وقت تک انسان سمجھ بھی نہیں سکتا کہ خدا بھی ہے ۔ گو