لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 87

لُجَّةُ النُّور ۸۷ اردو ترجمہ قصة مصيبتهم تضرعًا و آدابًا، مصیبت کا قصہ تضرع اور ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے فيعرضون ساكتين ولا يردون پیش کیا جائے تو وہ خاموش رہتے ہوئے اعراض عليهم جوابًا ۔ ولا يعبأون کرتے ہیں اور ان کو کوئی جواب ( تک ) نہیں بمقـالهم، ولا يبالون تضرعهم دیتے ۔ ان کی بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور نہ وما نزل لهم من أهوالهم ۔ ولم ہی ان کی گریہ وزاری اور ان پر نازل ہونے والی يزل أمر الظلم يزداد، والنفوس مصیبتوں کی پرواہ کرتے ہیں، اور ظلم کا معاملہ بڑھتا تصاد، حتى يبور الرعايا وتخرب ہی جا رہا ہے اور جانیں شکار کی جا رہی ہیں۔ یہاں البلاد ۔ وإنهم من ملوك تک کہ رعایا ہلاک ہو رہی ہے اور شہر ویران ہور ہے المسلمين۔ ولا نقص علیکم ہیں۔ یہ ہیں وہ جو مسلمانوں کے بادشاہ بنے قصة الآخرين ۔ فندعوك يا قدر پھرتے ہیں۔ اور ہم تمہارے سامنے دوسری قوموں ۸۰ السماء۔ أين أنت من هذه الأمراء کا قصہ بیان نہیں کر رہے۔ اے آسمانی تقدیر! ہم الرعايا يُصلحون الأرض بشق تجھے پکارتے ہیں تو ان امراء سے کتنی دور ہے۔ رعایا الأنفس للزراعة والغراسة، وإذا اپنے نفسوں کو سخت مشقت میں ڈال کر زمین کو استخرجت فيكتبون الخراج زراعت اور شجر کاری کے لئے موزوں بناتی ہے اور عليهم ولا يؤدون شرائط | جب وہ زراعت کے قابل ہو جاتی ہے تو وہ ان پر السياسة ۔ ومن المعلوم أن خراج مقرر کر دیتے ہیں حالانکہ خود انتظام سلطنت الرعية تؤدى الخراج إلى کی شرائط ادا نہیں کرتے۔ یہ معلوم بات ہے کہ رعایا الولاة ، لكونهم من الحماة، حاکموں کو اس لئے خراج ادا کرتی ہے کہ وہ اُن کے وإذا فاتت شرائط التعهد حامی اور محافظ ہوں ۔ اور جب ذمہ داری، کفالت والتكفل والحماية، فزال الحق اور حمایت کی شرائط باقی نہ رہیں تو حق زائل ہو جاتا كأن الرعايا خرجت من تلك ہے۔ گویا کہ وہ رعایا اس حکومت کی ماتحتی سے نکل الولاية، بل الخراج ما بقی گئی ہے۔ بلکہ وہ خراج جو کسانوں پر مقرر ہے