لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 69

لُجَّةُ النُّور ۶۹ اردو ترجمہ واتخذوا الأدب شرعةً کرنے لگے اور انہوں نے ادب کا اسلوب اور والتواضع مهجة ۔ وحُبِّبَ إلى تواضع كا طريق اختیار کیا۔ جب سے میں صاحب مُذْ أُمرت من الله ذی الآیات نشانات خدا کی طرف سے مامور کیا گیا ہوں مجھے یہ أن أعاشر الناس بالصبر محبوب ہے کہ میں لوگوں سے صبر اور حسن سلوک و المداراة ، و أن أبدی کے ساتھ پیش آؤں اور جو بھی میرے پاس آئے الاهتشاش لمن جاءنی و ترک اور حملہ کرنے کی عادت چھوڑ دے اس سے خوش خلقی الاختراش ۔ واتخذتُ لى هذه ظاہر کروں۔ میں نے اس طریق کار کو اپنا دستور بنا الشرعة نجعة، ورجوت به لیا اور اس کی وجہ سے دشمنوں سے بھی نرمی کی امید ۶۳ من العدا تُؤدةً۔ فَتَعرَّى كبرهم رکھی۔ لیکن ان کا کبر اس طرح ظاہر ہو گیا جس كتعرى الجبال بعد انجیاب طرح برف پگھلنے کے بعد پہاڑ ننگے ہو جاتے الثلوج، وما بقى فيهم من الأدب ہیں ۔ اور ان میں کوئی معروف مروجہ ادب باقی نہ المعروف المروج۔ وعجبت من رہا۔ میں اپنے دل پر تعجب کرتا ہوں کہ مجھے ان قلبي كيف يأخذني الرحم علی دشمنوں پر رحم کیسے آجاتا ہے؟ باوجود یکہ میں نے هذه العدا ۔ على أنّى لم أَلْقَ منهم اُن سے سوائے اذیت کے کچھ نہیں پایا ۔ انہوں إلا الأذى ۔ وقد أرادوا سفك نے میرا خون بہانے اور میری ہتک عزت کرنے دمی و هتك عرضی و گلمونی کا ارادہ کیا اور نیزوں کی طرح کلام سے مجھے زخمی بكلم كالقنا، ولبسوا الصفافة کر دیا۔ انہوں نے بے شرمی کا جامہ پہن لیا اور وخلعوا الصداقة، وأقبلوا على صداقت کا لبادہ اتار پھینکا اور جنگل کے درندوں کی إقبال سباع الفلا، إلا الذين تابوا طرح مجھ پر حملہ کر دیا سوائے ان لوگوں کے، جنہوں وأصلحوا وكفوا الألسن نے توبہ کی اور اصلاح کی اور زبان درازی سے رک وعاهدوا أن يجتنبوا الفحش وان گئے اور بدی سے اجتناب کرنے اور تقویٰ کو نہ لا يتركوا التقى ۔ وما أسألهم من چھورنے کا عہد کیا۔ اور میں ان سے کوئی اجر نہیں